اشعار و غزل

صبح کا نور ہوں ، خوشبوئے پھول ہوں ! محمد عاصم اسعد

صبح کا نور ہوں ، خوشبوئے پھول ہوں
میں محبت کی فطرت پہ مجبول ہوں

جیسا چاہے ، بنا لے ، مخاطب مجھے
سخت پتھر سا ہوں ، نرم سا پھول ہوں

جرم سچ بولنے کا کیا تھا کبھی
آج تک شہر سے اپنے معزول ہوں

اپنے ہی قتل کا ، مجھ پہ الزام ہے
یعنی قاتل بھی میں ، میں ہی مقتول ہوں

بھوک مری گاؤں سے شہر لے آئی ہے
میں مہاجر نہیں ، بلکہ منقول ہوں

تنہا مسجد کو کیسے چلا جاؤں میں ؟
اپنے ماتحت کا بھی ، میں مسؤل ہوں

تم نے پرکھا فقط ، مجھ کو سمجھا نہیں
تھوڑا مشکل تو ہوں ، پر میں معقول ہوں

تم کو بھولا نہیں ، بات بس یہ ہے کہ
ان دنوں میں پڑھائی میں مشغول ہوں

باوفا ہے تو ، یعنی وفا کی دلیل
میں سراپا وفا ، یعنی مدلول ہوں

طفلِ مکتب ہوں میں ، مجھ کو اقرار ہے
ہاں میں اسلاف کے پاؤں کی دھول ہوں

گرچہ شہرت مری ، آپ سی تو نہیں
پھر بھی تھوڑا بہت ، میں بھی مقبول ہوں

پنہاں مجھ میں بھی اسعد ، صدف ہیں بہت
یہ الگ بات ہے ، کہ میں مجہول ہوں

محمد عاصم اسعد

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close