اشعار و غزل

غزل : وہ والد کا فخر ہوتی ہیں ، ماں کی جان ہوتی ہیں ! محمد عاصم اسعد

غزل
وہ والد کا فخر ہوتی ہیں ، ماں کی جان ہوتی ہیں
سنا ہے بیٹیاں اپنے ہی گھر مہمان ہوتی ہیں

پرانی زندگی سے رابطے سب توڑ جاتی ہیں
سنا ہے بیٹیاں ماں باپ کو بھی چھوڑ جاتی ہیں

سنا ہے بیٹیاں اب بھائیوں سے دور رہتی ہیں
بہت آتی ہے یاد ان کی مگر مجبور رہتی ہیں

سنا ہے بیٹیاں ، بہنوں سے ملنے کو ترستی ہیں
چھپا کر اپنا منھ کمبل میں وہ ہر شب سسکتی ہیں

سنا ہے بیٹیوں کو یاد اپنوں کی ستاتی ہے
کبھی ان کو ہنساتی ہے ، کبھی ان کو رلاتی ہے

سنا ہے بیٹیوں کا شوق اب باقی نہیں کوئی
پلائے آبِ شفقت ان کو ، وہ ساقی نہیں کوئی

سنا ہے شمع کی مانند بس وہ جلتی رہتی ہیں
مشینوں کی طرح ہر پل ، مسلسل چلتی رہتی ہیں

سنا ہے بیٹیوں کو مرض بھی لاحق نہیں ہوتا
جو ہوتا بھی ہے ان کے عزم کے لائق نہیں ہوتا

سنا ہے بیٹیوں کو نیند کی حاجت نہیں ہوتی
مسلسل پانچ گھنٹے سونے کی عادت نہیں ہوتی

سنا ہے بیٹیاں تکلیف میں بھی مسکراتی ہیں
میں بالکل ٹھیک ہوں امی یہی اکثر بتاتی ہیں

سنا ہے بیٹیاں اب ہر گھڑی پرجوش رہتی ہیں
ہر اک مشکل سے لڑنے کو ہمہ تن گوش رہتی ہیں

ذرا سی چوٹ لگنے پر ، اٹھا لیتی تھیں گھر سر پر
سنا ہے دل کے دکھنے ہر بھی اب خاموش رہتی ہیں

بڑی نازک سی ہوتی ہیں یہ فورا ٹوٹ جائیں گی
ستانا مت کبھی اسعد ، نہیں تو روٹھ جائیں گی

محمد عاصم اسعد

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close