اشعار و غزل

ہر گھڑی مرے دل پر ، رنج و غم کا سایہ ہے! م ۔ ع ۔ اسعد

ہر گھڑی مرے دل پر ، رنج و غم کا سایہ ہے
درد یہ رگ و پے میں ، کس طرح سمایا ہے

اشک اب نکلنے سے پہلے سوکھ جاتے ہیں
مجھ کو دنیا والوں نے ، اس قدر رلایا ہے

میں تو خوب ہنس مکھ تھا ، پر یہ ظلم کر کر کے
مجھ کو بعض لوگوں نے ، تند خو بنایا ہے

اب کسی بھی انساں کا ، ڈر نہیں بچا دل میں
اک ڈرانے والے نے ، اس قدر ڈرایا ہے

شکریہ کہوں کیسے اے الم ، مجھے تو نے
زندگی کے جینے کا ، طرز جو سکھایا ہے

اصلیت یہ دنیا کی ، آؤ تم کو بتلاؤں
ماسوائے خالق کے ، سب کا سب یہ سایہ ہے

خواب جلتے دیکھے ہیں ، ”مردے“ چلتے دیکھے ہیں
چار دن کے جیون نے ، کیا سے کیا دکھایا ہے

چائے سے بھی اب مجھ کو ، ہو گئی ہے نفرت سی
جب سے چائے والے نے ، دیش کو جلایا ہے

سامنے سمندر ہے ، پھر بھی دیکھو پیاسا ہوں
”زندگی“ میں یہ میری ، کیسا موڑ آیا ہے

سوز و غم کی شدت سے ، جب بھی دل جلا میرا
”آنسؤں کی بارش“ سے ، ”آگ“ کو بجھایا ہے

”غم“ میں مسکرانے کا ، یونہی کب ہنر آیا
قتل کرکے خوشیوں کو ، سولی پہ چڑھایا ہے

مدتوں کے بعد اتنی ، مجھ کو خود کی یاد آئی
مدتوں کے بعد اسعد ، میں نے خود کو پایا ہے

م ۔ ع ۔ اسعد

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close