اشعار و غزل

آزادی کی نظم ! از قلم۔۔۔۔۔ احمداللہ عقیل حیدر فلاحی

آزادی کی نظم

مانگ رہے ہیں ظلم و ستم سے امن و اماں کی آزادی
روزگار کی علم و ادب کی دوا، دعا کی آزادی
چاہت اور محبت والی آزادی گر دو گے نہیں
چھین کے لیں گے لڑ کے لیں گے راہ وفا کی آزادی

لہو کا ہر قطرہ ہے بنا آزادی کا انگارا
ہم ہیں ہندوستانی سارا ہندوستان ہمارا

پیاری پیاری آزادی ہم مانگ رہے ہیں پیار سے
منوواد سے سنگھ واد سے بی جے پی سرکار سے
ابھی محبت کی باتیں ہیں سن لو ابھی فریاد میری
ورنہ لڑیں گے آزادی کی جنگ تیر تلوار سے

آزادی آزادی دل میں یہی لبوں پہ نعرہ
ہم ہیں ہندوستانی سارا ہندوستان ہمارا

بسمل اور اشفاق والی بھگت سنگھ آزاد والی
ٹیپو والی اور سنو فضل حق خیراباد والی
نقش قدم پر ان کے چلیں جو جان لٹا آئیں ہیں
باندھ کفن اب مانگ رہے ہیں آزادی اجداد والی

آزادی کے نغموں سے اب گونجا دیش ہے سارا
ہم ہیں ہندوستانی سارا ہندوستان ہمارا

سی اے اے سے این آر سی سے این پی آر سے آزادی
کاغذات کی دوڑ بھاگ سے ہاہا کار سے آزادی
ہٹلر شاہی ظلم و ستم سے مہنگائی سے لڑنا ہے
ہندو مسلم کے جھگڑوں سے مار دھاڑ سے آزادی

آزادی کے رنگ نے حیدر سب کا روپ نکھارا
ہم ہیں ہندوستانی سارا ہندوستان ہمارا

از قلم۔۔۔۔۔ احمداللہ عقیل حیدر فلاحی 22/01/2020

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close