اشعار و غزل

کوئی چھڑائے گا ظالم کی قید سے اس کو : اس انتظار میں بیٹھی ہے مسجدِ اقصی : ڈاکٹر ولا جمال العسیلی

ہر ایک شخص سے کہتی ہے مسجدِ اقصی
ستم کی فوج نے گھیری ہے مسجدِ اقصی
 پھر اس کے صحن میں معصوم خون بہتا ہے
لہو میں بچوں کے ڈوبی ہے مسجدِ اقصی
ستم جو ڈھائے درندوں نے روز ِ عید وہاں
تو  غرق خون میں دیکھی ہے مسجدِ اقصی
کوئی چھڑائے گا ظالم کی قید سے اس کو
اس انتظار میں بیٹھی ہے مسجدِ اقصی
پلٹ کے آیا نہیں پھر کوئی صلاح الدین
اسی کی یاد میں روتی ہے مسجدِ اقصی
زمانے بھر کے مسلمان اس کو بھول گئے
نہ جانے کب سے اکیلی ہے مسجدِ اقصی
ولا کے دل پہ ہے تحریر شہرِ قدس کا نام
اور اس کی روح میں بستی ہے مسجدِ اقصی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close