اشعار و غزل

شاعرِ سیمانچل ظفرامام پورنوی نے عالمی شہرت یافتہ عالم دین حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی دامت برکاتہ کی شان میں لکھا قصیدہ۔۔۔

شاعرِ سیمانچل ظفرامام پورنوی نے عالمی شہرت یافتہ عالم دین حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی دامت برکاتہ کی شان میں لکھا قصیدہ۔۔۔

مخزنِ علم و ہنر وہ دین کا رہبر بھی ہے
جو تصوف اور تقوی کا بڑا عنصر بھی ہے
ہے تبسم لب پہ آنکھوں میں حسینی دبدبہ
چہرۓ سلمان وہ دلکش حسیں منظر بھی ہے
الله والے ہیں زباں شیریں ہے مومن کے لئے
ورنہ کافر کے لئے ان کی زباں خنجر بھی ہے
دورہ حاضر میں کوئی ان کے مقابلہ ہیں کہاں
حق بیانی میں وہ ماہر جھوٹ کا نشتر بھی ہے
ہے ریاکاری کا منکر شوقِ شہرت سے بری
رب نے چاہا اسلئے دنیا میں وہ اشہر بھی ہے
ان کی محنت کا وہ ثمرہ جامعہ احمد شہید
اک ادارہ ہی نہیں وہ علم کا محور بھی ہے
اتحادِ امت و اسلام کے داعی ہیں وہ
دل میں وہ توحید ہے جو حشر کی معبر بھی ہے
ہے فقط اک ہی بشر سلمان تو لیکن ظفر
ایسا لگتا ہے کہ جیسے خود وہ اک معشر بھی ہے
عمر میں استاذ کی دیدے طوالت اے خدا
سب ہے شامل اس دعا میں اور مجھ کم تر بھی ہے
(ظفرامام ظفرپورنوی)

آپ کو معلوم ہیکہ مفکر اسلام مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب صدر جمعیت شباب الاسلام لکھنؤ بانی وناظم جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد یوپی آج کل بہار کے دورے پر ہیں اسی کڑی میں ١\مارچ کو مدرسہ نورالقرآن بیگمپور کے نگر آۓ ہوے تھے جہاں انھونے اپنی قیمتی تقریر اور مفید مواعظ حسنات سے نوازا اور انکی شان میں ظفر امام پورنوی کی طرف سے یہ قصیدہ پیش کیا گیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close