اشعار و غزل

غزل : چلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہیں۔ از قلم۔۔۔محمد سُلطان اختر نوادہ۔بہار

غزل

جوابِ غزل”””

از قلم۔۔۔محمد سُلطان اختر نوادہ۔بہار

چلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہیں۔۔۔
محبّت اُلفت پر باتیں کرتے ہیں۔۔۔
یقیناً جو حد سے گزرتا ہے وہ مرتا بھی ہے۔۔۔۔
ایک دوجے کے لئے سب کچھ کر گزرنا آسان لگتا ہے۔۔
سبھی رشتے ناطے ضرورت کی احساسیں ہیں۔۔۔
چلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہیں۔۔۔۔

یہ سب لفظوں و حروفوں سے ہی دل میں اترتا ہے۔۔۔

یہ سارا کھیل عشق کا ہے۔۔۔
جو ایک دوسرے کو محبوب بناتا ہے۔۔۔۔۔

سبھی اِن جملوں اور لمحوں کو یاد کرتے ہیں۔۔۔۔
چلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہیں۔۔۔۔

جیسے تم حیات خضر کی دہائی دیتے رہے ۔۔۔۔

سانس لینا دشوار ہو بن جس کے
تمہیں ایک جرم لگتا ہے۔۔۔

سنگ جس کے ہر ایک لمحہ خوش و خرم لگتا ہے
جیسے ہم کوثر کہتے ہیں۔۔۔

جیسے ہم شاعری کہتے ہیں۔۔۔
چلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہیں۔۔۔۔

غزل کا مصرعہ ہے مضمون کی تمہید ہے۔۔۔
وُہ لہجہ جب بدلتی ہے۔
قیامت خیز لگتی ہے۔۔

اب وُہ ہمیشہ کے لئے میری ہے۔۔جو سایہ بن کر میرے پاس رہتی ہے۔۔۔

اُس کے سب رستے سدا میرے لئے ہیں۔۔
چلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہیں۔۔

اُس کا طرز تکلم شراپا کشش۔۔
داستان،دل رُبا،دل فِزا،دل نشیں،،

وہ میری محبوبہ لگتی ہیں،وُہ جانتی ہو کوں ہے وہ میری محبوبہ ہے ،،

وُہ میری ہمدم ہے،میرا بہت خیال رکھتی ہیں۔۔۔۔
چلو ہمیشہ کی طرح ہنستے ہیں۔۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close