اشعار و غزل

"میں کسان ہوں” (خصوصی نظم کسانوں کے لیئے ) : عباس دھالیوال

عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ، پنجاب.
رابطہ. 9855259650

"میں کسان ہوں”

میں کہ سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ
ان کا پانی کھیتوں تک لایا
اپنی محنت کے صدقہ خاک سے سونا اگایا
ہمت و جولانی کے دم سے
بنجر زمینوں کو کاشت کے قابل بنایا
میں عام کسان ہوں …
میں نے خود کو بھوکا رکھ
دنیا کو بھر پیٹ کھانا کھلایا
خود کو ننگا رکھ لوگوں کو لباس پہنایا
میں نے سرد موسم میں زمیں کے
بکھرے گیسوں سنوارے
تپتی دوپہر میں سنچائی کر
زمین کا سینہ ٹھارا
میں عام کسان ہوں …
کہنے کو حاکم میری انداتا کہہ کر
ڈھارس بندھواتے ہیں
اور ہاں اپنے گوداموں کو بھرنے کی خاطر
کبھی کبھی جئے کسان کا نعرہ بھی لگاتے ہیں
ایسا نہیں ہے کہ میں حاکموں کی
ان شاطرانہ چالوں سے انجان ہوں.
میں جانتا ہوں کہ
حاکم طبقہ کی طرف سے
جو میری ہمدردی میں کہے لفظ ہیں
وہ خالی لفاظی کے علاوہ کچھ نہیں
میں عام کسان ہوں…
میں نے مدتوں استحصال چکی کے بیچ
پستے ہوئے اپنے وجود کی بقا کے لیے سنگھرش کیا
میں نے کھیتوں میں نکّے ہی نہیں
وقت آنے پہ دریاؤں کے رخ موڑے ہیں
بلکہ وقت آنے پہ ہر جابرِ کے غرور توڑے ہیں
میں آج بھی ہر ظلم کا منہ توڑ
جواب دینے کو تیار ہوں.
میں عام کسان ہوں..

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close