اشعار و غزل

غزل : اپنی محبت کا ایک نیا سبق پڑھا گیا : از ۔شیبا کوثر ( آ رہ ،بہار )انڈیا ۔

غزل : از ۔شیبا کوثر ( آ رہ ،بہار )انڈیا ۔

اپنی محبت کا ایک نیا سبق پڑھا گیا
دستک دئے بغیر میرے گھر میں آ گیا

دل خوش ہوا ،میں نے نظریں اتار دی
اسکا خلوص میرے مقدر میں آ گیا

پہلے جناب ڈوبے لفظوں کے جال میں
پھر حسن کا شمار تیرے شر میں آگیا

جو شام و سحر وفا کے نگر میں آگیا
وہ میرا پیار ہے قلب و جگر میں آگیا

وہ اک شخص جو مجھ سے ملا نہیں کبھی
خدا گواہ ہے میری نظر میں آگیا

جسکی ایک ہی خواہش پر زندگی وار دی
اسی کے پیار کا رنگ میری چشم تر میں آگیا

وہ میرے اشکوں کے دریا سے آشنا ہی نہیں
عجیب شخص ہے وہ دل کے سمندر میں آگیا

وہ میری سوچ کے دریچے کو پناہ دے کیسے
غم ِحیات کا سایہ میری شجر میں آ گیا

پھر ٹوٹ کے بکھرنا تو تھا لازمی کوثر
اک کانچ تھا کے دست ِستمگر میں آ گیا ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close