اشعار و غزل

غزل : کیا تم نے دیکھا ہے خوبصورت پل کا مختصر ہو جانا : رضا تسلیم پچنبھا نوادہ

غزل

رضا تسلیم پچنبھا نوادہ

کیا تم نے دیکھا ہے خوبصورت پل کا مختصر ہو جانا
میں نے اکثر دیکھا ہے محبت میں لوگوں کا بکھر جانا
یہ عشق محبّت خواب وعدے ارادے سب کہ سب جھوٹ
میں نے شب روز دیکھا ہے اپنے آنکھوں کا سمندر ہو جانا
گر ہے عشق سچا تو شیریں فرہاد شاہ جہاں اور ممتاز بن
میں نے پڑھا ہے محبّت کے ایسے شہنشاہوں کا اَمَر ہو جانا
کبھی تنہائ کبھی پر چھائ کبھی ویرانی کبھی پریشانی کئ اذیّتیں
ان اذیّتوں نے کہا کئ بار ہم سے خودکشی کر جانا
اسکا بےرخی ہونا ستانا رلانا پھر چھوڑ کر چلا جانا گر یہ درد ہے تسلیم
تو میں نے سیکھا ہے ایسے ہی دردوں سے شاعر بن جانا

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close