اشعار و غزل

غزل : دیدارِِ حُسنِ یار سرِ عام تو کیا : مُدّت کے بعد دل نے مرے کام تو کیا : طارق نوادوی , سعودی عرب

غزل

دیدارِِ حُسنِ یار سرِ عام تو کیا
مُدّت کے بعد دل نے مرے کام تو کیا

جھوموں خوشی سے کیوں نہ سرِ بزمِ میکشاں
اک شام اُس نے جام مِرے نام تو کیا

قِسمت میں مے نہیں تھی جو میرے کیا ہوا
اُس نے قریب لب کے مِرے جام تو کیا

پائی نہ ہم نے دولتِ دُنیا تو کیا ہوا
حاصل یہ دردِ دل کا ہے انعام تو کیا

خاموش رہ کے اہلِ جُنوں نے یہ اب کی بار
شور و شغب سے اچھا اک اِقدام تو کیا

اچھا ہے اس بہانے ذرا نام ہو گیا
طارق کو تم نے دُنیا میں بدنام تو کیا

طارق نوادوی , سعودی عرب

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close