اشعار و غزل

نظم : یوم آزادی ! شاہین ارم بنتِ سید صادق

نظم 

یوم آزادی1947

سن غور سے تو اے مسلماں,تو بھی ہے ہندوستانی

جو شہید ہوۓ ہیں مسلماں وہ نہ ہیں اتنگوادی

وہ ٹیپوؒ,حیدرؒ,ازاد کیا بھول گیا ہے انہی تو

ان کے ہی خون سے ملی ہے ہم کو اب یہ ازادی

جو شہید ہوۓ ہیں مسلماں وہ نہ ہیں اتنگوادی

لٹکے تھے سر جو ان کے وہ سب علماء اکرامی

آزادی کی خاطر وہ سینہ میں دباۓ گولی

کیا خاک مٹاۓ گا تو پہچان مومن کی یہ

وہ جو ساتھی تھے گاندھی کے بتخ انصاری

جو شہید ہوۓ ہیں مسلماں وہ نہ ہیں اتنگوادی

مینارِقطب دیکھوں میں ,وہ تاجِ محل کا منظر

وہ شاہی گول گنبد,وہ لعل قلعہ کی مٹی

سن پھر سے تو اے مسلماں برسوں سے تھی جو حکومت

ان مغلوں کی تھی گلیاں,وہ دہلی کے سلطانی

جو شہید ہوۓ ہیں مسلماں وہ نہ ہیں اتنگودی

انگریزوں کو بھگواکر,مٹی یہ ہاتھ میں لی تھی

سر کو بھی کٹاکے کے ہم نےدی تھی جو قربانی

تاریخوں کو جو مٹا کر,ہم کو بھگوانے والے

وہ تھی جو” سُریا طیب” ترنگے کو رنگنے والی

جو شہید ہوۓ ہیں مسلماں وہ نہ ہیں اتنگودی

دھرموں کا دیش بنا کر, یوں دیش چلانے والے

ہاں خون دے کر ہم نے لی تھی ملک کی ازادی

یہ دشمنی کی سرحد, بنوانے والے بھگتوں

"ارم” پھر سے بناۓ گی وطن میں جشن ازادی

جو شہید ہوۓ ہیں مسلماں وہ نہ ہیں اتنگودی

شاہین ارم بنتِ سید صادق
ڈی وی یس کالج شیموگہ,کرناٹک
(7090559890)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close