اشعار و غزل

نظم : "انسانیت پہ تیری خدایا یہ وبا کے ہیں دن” از شیبا کوثر (آ رہ) ۔

"انسانیت پہ تیری خدایا یہ وبا کے ہیں دن” از شیبا کوثر (آ رہ) ۔

نظم

نجانے کیسی ہے یہ آزمائش
نجانے کیسا ہے یہ امتحاں
یہ انسانوں کی بستی کا عالَم ہے
یا ہیں حشرات خدایا
بعد مرنے کے جن سے بھر گئے ہیں
گورستان کے گورستان سارے

بس گزر رہے ہیں
یہ جو سزا کے ہیں دن
انسانیت پہ تیری خدا یا
وبا کے ہیں دن
کہاں سے آیا ہے
نجانے کس کا ہے اس میں قصور
گھٹ گھٹ کے جینے پر
کر دیا ہے جس نے مجبور
بظاہر تو نظر نہیں آتا
مگر کچھ اسقدر ہے مہلک کہ
اندر سے کر دیتا ہے یہ
انسان کو چور چور
جاں تک دے دی جسنے

اس مسیحا کے ہیں دن
انسانیت پہ تیری خدایا
یہ وبا کے ہیں دن
چاہے امیر ہو یا غریب،
سب کو بنایا ہے اس نے نشانہ
خوش نصیب تو وہ ہیں
جسکو ہوا نصیب
آخری ٹھکانہ
یہ قیامت کی نشانی
نہیں تو اور کیا ہے

آن وارد میں بن گئی
ساری دنیا اک ویرانہ
گر جاؤ سجدے میں لوگوں
یہ ہے دعا کے دن
انسانیت پہ تیری خدایا
یہ وبا کے ہیں دن !!!

sheebakausar35@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
Close