اشعار و غزل

نظم : ایک شکوے کی تردید ! خالد مبشر

نظم
ایک شکوے کی تردید

خالد مبشر

اگرچہ عید کا دن تھا مگر خوشیاں ندارد تھیں
قبیلے کے سبھی حساس لوگوں کی طرح میں بھی خود اپنے آپ سے بیزار بیٹھا تھا
بس اک بے ساختہ حرفِ شکایت منہ سے نکلا تھا کہ رنگ و بو سے خالی عید کوئی عید ہوتی ہے؟

مگر اتنے سے شکوے پر زمین و آسماں سارا مخالف ہوگیا میرا
چہار اطراف سڑکوں پر ہزاروں زخمی تلوؤں کے لہو نے مجھ کو یہ طعنہ دیا دیکھو کہ مہندی عید کی ہے یہ
دہکتے، آگ اگلتے راستوں پر ایک عورت چلتے چلتے خون میں لت پت ہوئی اور ماں بنی، پھر چل پڑی یوں ہی
ٹپکتے خوں کے قطروں سے صدا آئی

کبھی بھی عید رنگ و بو سے خالی ہو، یہ ہرگز ہونہیں سکتا
ان آوازوں سے مجھ پر ایک جھلاہٹ سی طاری تھی
فضا میں ایک چیخ ابھری

مری ہی چیخ تھی، لیکن مرے قابو سے باہر تھی
مرا شکوہ مرے لب پر بغاوت بن کے ابھرا تھا
مری چیخیں یہ کہتی تھیں کہ عید ایسی نہیں ہوتی

نہاتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں، سیوئیاں، شیٖر کھاتے ہیں، سبھی مل کر نمازِ عید پڑھتے ہیں، گلے مل کر مبارک باد دیتے ہیں
مری چیخوں کا کہنا تھا کہ اب کی عید میں ایسا کہاں کچھ ہے؟
مگر میری بغاوت سے زیادہ تیز چیخیں ہرطرف میرے خلاف اٹھنے لگیں پھر سے

صدا آئی
نہایا عید میں کس نے نہیں آخر؟
قبیلے کے سبھی حساس لوگوں کی طرح تم بھی تو اشکوں میں نہائے تھے
بتاؤ کون ہے جس نے نئے کپڑے نہیں پہنے؟

اداسی میں سبھی ملبوس تھے اس دن
غم واندوہ کی شیرینیاں کس نے نہیں کھائیں؟

کوئی بھی عید گہہ ویراں نہیں، آبادیاں زاغ و زغن کی سب میں قائم تھیں
چہار اطراف بھوک اور موت جم کر ابنِ آدم سے گلے ملتی رہی دن بھر
سو اب بیجا شکایت بند بھی کردو کہ رسمیں عید کی ساری ادا کردی گئیں ______ساری.

خالد مبشر
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close