اشعار و غزل

غزل : تحمل ٹوٹ جائےگا، قناعت ٹوٹ جائے گی : ہوئے ہم مشتعل تو پھر روایت ٹوٹ جائے گی : محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی

غزل

تحمل ٹوٹ جائےگا، قناعت ٹوٹ جائے گی
ہوئے ہم مشتعل تو پھر روایت ٹوٹ جائے گی

کسی نے دل دکھایا یا کسی نے ٹھیس پہچاءی
یقیں رکھو کہ خود اس پر قیامت ٹوٹ جائے گی

مسیحا تم محبت کے تمہیں ہو دل کے چارہ گر
تمہیں بد دل اگر ہوگے طبیعت ٹوٹ جائے گی

زمانے میں ہر اک انسان مطلب کا نہیں ہوتا
آگر سب سے رکھی تو پھر رفاقت ٹوٹ جائے گی

کیا ہے در گزر جس نے اسے تم در گزر کر دو
یہ مت دیکھو کہ زنجیر محبت ٹوٹ جائے گی

سخنور ہو سخنور کو رکھو زندہ میاں ارشد
بکھر جاوءں گے تو شاخ عبارت ٹوٹ جائے گی

محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی
شعبہ اردو سینٹ جانس کالج آگرہ
9259589974

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close