اشعار و غزل

"ٹرین” : پٹریوں پے دوڑتی ہوئی ٹڑین : تھکے ہارے مزدوروں کے جسموں پر چلتی ہے: عرشیہ انجم

"ٹرین”

پٹریوں پے دوڑتی ہوئی ٹڑین
ہر اسٹیشن پر

کِسی کو مبتلا فراق میں کرتی ہے
کِسی کو وصل کا مژدہ سنا تی ہے

کوئی شوقِ علم کی خاطر
کوئی تلاشِ روزگار کے واسطے

کوئی بس یوں ہی سوار ہو جاتا ہے
کہ کہیں نہیں رکنا کہیں اور جانا ہے

ایک ٹرین ایسی بھی ہے جو پٹریوں پر نہیں
تھکے ہارے مزدوروں کے جسموں پر چلتی ہے

ان کے خواب و اُمید کو کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے
کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھتی

شاید مزدور کبھی کوئی مسئلہ تھے ہی نہیں
مسئلہ بھوک تھی، زندگی کی مشقت تھی
بھوک فنا ہو گئی مسئلہ حل ہو گیا۔

عرشیہ انجم
یو۔پی
arshiyaanjum1015@yahoo.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close