اشعار و غزل

یکم مئی یعنی "مزدور دیوس”پر خصوصی نظم : محمد عباس دھالیوال

محمد عباس دھالیوال،
مالیر کوٹلہ.
رابطہ. 9855259650
Abbasdhaliwal72@gmail.com

‘مزدور’

ہاں میں مزدور ہوں …
جس نے ہمیشہ خواہشات کا گلا گھونٹ،
ارمانوں کا اپنے قتل کر،ضرورتوں کو بمشکل پورا کیا.
جس نے غربت کا درد سہتے ہوئے ،

اپنی روح تک کو چھلنی کیا .
جس کی محنت صدقہ چمنیوں سے نکلتے دھوئیں نے ،
صنعتی گھرانوں کو خوشحال کیا .
لیکن پھر بھی ہر لمحہ اہلِ دولت نے میرا استحصال کیا ۔
ہاں میں مزدور ہوں …

جس نے چین کی دیوار سے لے لال قلعے تک تھے اُسارے !
جس نے خود کی محبت کا گلا گھونٹ.
شاہ جہاں و ممتاز کی محبت کو لاثانی کیا ۔
ہاں میں مزدور ہوں …
میرے بہت سے رنگ اور روپ ہیں
لیکن کہتے ہیں جسے تقدیر ،
وہ لگتا ہے سب کی ایک ہے۔
ہاں ، میں مزدور ہوں!

میں زیر تعمیر عمارات ، فیکٹریوں ،
اور کھیتوں میں موجود ہوں!
میں اکثر سرکاری و پرائیویٹ دفاتر میں .
حاکموں کی صلواتیں سننے کو مجبور ہوں.
ہاں ، میں مزدور ہوں!
قدرتی آفات ہوں کہ فرقہ وارانہ فسادات کوئی .
پلیگ ہو کہ کورونا وائرس کوئی

میں ہر جا پہلی صفحوں میں
خود کی قربانی دینے کو مجبور ہوں!
ہاں میں مزدور ہوں ..!
سنتا ہوں انسان بہت ترقی کر گیا ہے ۔
چاند پہ تسخیر پا جانبِ مریخ بڑھ گیا ہے ۔
لیکن میرے لیے ابھی بھی،

دو وقت کی روٹی کے مسائل بڑے ہیں.
کہتے ہیں آئین میں انساں کو حقوق حاصل بڑے ہیں۔
لیکن میرے سامنے اب بھی اندھیرے گھنے ہیں …!
اندھیرے گھنے ہیں .. !! اندھیرے گھنے ہیں…!!!

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close