ارریہ

ملک کی آزادی کیلئے جان نچھاور کرنے والے مسلمانوں سے انگریزوں کی چاپلوسی کرنے والے ناگرکتا مانگ رہے ہیں : ڈاکٹر ایس آر جھا

ارریہ( رقیہ آفرین) سی اے اے،این آر پی اور ممکنہ این آر سی کے خلافِ ہورہے احتجاجی مظاہرہ کو جہاں ایک جانب حکومت اور محکمہ روکنے کیلئے کوشاں ہیں تو دوسری جانب اس سیاہ و متنازعہ قانون کے خلاف جامعہ ملیہ،جےاین یو اور شاہین باغ اور دگر اسکول و کالج اور تنظیموں و جماعتوں کے ذریعےاٹھنے والی صدائے احتجاج نے پورے ملک کی سیکولر عوام وخواص کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا ہے۔اور وہ لگاتاراپنی جدوجھدجاری رکھے ہوئے ہیں اور حکومت سے ان کالے قوانین کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے گزشتہ یوم بھی ارریہ کے بیرگاچھی چوک پر گلوبل پبلک اسکول کے سامنے ایک وسیع میدان میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد ہوا۔جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آشیش رنجن نے کہاکہ ہماری یہ مشترکہ لڑائی دیش کے آئین کو بچانے کے لئے ہے۔ یہ ہندو مسلم کی لڑائی نہیں ہے یہ دیش کی لڑائی ہے۔اور ہم اسے اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک یہ کالے قوانین واپس نہیں ہوتے۔وہیں زاہد انور نے کہاکہ جو ملک بے روزگاری،رشوت اور مہنگائی کی مار سے دوبھر ہو اس میں سی اےاے این پی آر اور این آر سی کا قانون سواۓ ملک کو توڑنے اور دھرم کے آدھار پر بانٹنے کے کچھ نہیں ہے۔
ڈاکٹرایس آرجھا نے کہاکہ مودی اورشاہ کی جوڑی نے آج ملک کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کردیا ہے۔مسلمان وہ لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد اور پرکھوں نے دیش کی آزادی میں اپنی قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ان سے وہ لوگ ملک کی ناگرکتا مانگنا چاہتے ہیں جو آزادی کے وقت انگیریزوں کی چاپلوسی کررہے تھے۔
جے این یو سے آئےتبریز حسن نے کہاکہ یہ لڑائی جامعہ ملیہ،جے این یو اور شاہین باغ کی ماؤں اور بیٹیوں نے پولیس کی لاٹھیاں کھاکر شروع کی ہے۔یہ آج یا کل کامیاب ہوکر رہے گی۔
جمعیت علماءارریہ کے جنرل سیکریٹری مفتی محمد اطہر القاسمی نے کہا کہ جن کے آباؤاجداد نے آزادی وطن کی لڑائی کی قیادت کی اور دولاکھ مسلمانوں اور اکیاون ہزار علماء کی شہادت کا نذرانہ پیش کیا اور برادران وطن کو ساتھ لے کر دیش کو آزاد کرایا آج ان کی اولاد کی شہریت پر شک کیاجارہاہے؟نہیں ایسا نہیں ہوسکا۔ہم پیدا اسی مٹی سے ہوئے ہیں اور اپنی نسلوں کے ساتھ یہیں دفن ہوجائیں گے۔ہمارے وطن کی مٹی ہماری شہریت کی گواہی دے گی۔ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے۔
عاشق بھائی نے کہاکہ گنگا جمنی تہذیب کا یہ ملک اب دوبارہ غلام نہیں ہوسکتا۔ہماری مشترکہ تحریک اب کامیاب ہونے والی ہے۔
قاضی عتیق اللہ رحمانی نے کہا کہ امارت شرعیہ دیش کے تمام باش

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close