ارریہ

بیرونی مداخلت پر تشویش کیوں؟ ازقلم قاری محمد تسکین جامعی صاحب

ارریہ/31فروری(توصیف عالم) یہ حقیقت ہے کسی ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے لیکن جب ظلم و ناانصافی کھلے عام ہونے لگے اور ملک کے آٸین کے ساتھ کھلواڑ کیا جانے لگے تو ضرور ناانصافی کو انصاف سے بدلنے کے لیے کوٸی آواز اٹھتی ہے اور اگر ظالم حکومت بر وقت متنبہ ہو جاتی ہے تب تووہ آواز اندرون ملک ہی رہ جاتی ہے لیکن اگر حکومت اپنی انانیت اور تاناشاہی کی وجہ سے ضد اور ہٹ دھرمی پہ قاٸم رہتی ہے تو وہ آواز عالمی پیمانہ پر اٹھنے لگتی ہے اور آج شوسل میڈیا کے دور میں یہ کوٸی تعجب کی بات بھی نہیں ہے،ماضی قریب میں ناٸب صدر جمہوریہ وینکیا ناٸیڈو کا ایک بیان روزنامہ انقلاب میں شاٸع ہوا تھا جس
میں انہوں نے کہا تھا کہ ”ہندوستان ہمیشہ اپنے شہریوں کے لیے انصاف ،آزادی اور مساوات کے لیے پرعزم ہے“درحقیقت ہمارے ملک کا آٸین اسی کا متقاضی ہے لیکن سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون 2019) جو بلاشبہ آٸین کے خلاف ہے اس کی کیوں ضرورت پیش آٸی ؟ اس کی قانون سازی مذہبی بنیاد پر کیوں کی گٸی کچھ مخصوص مذاہب کےلوگوں کو اس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا ؟صرف ہندوستان ،پاکستان بنگلہ دیش کے مہاجرین کو اس کے تحت کیوں شامل کیا گیا؟نیز 31 دسمبر 2014 تک کی تاریخ کےساتھ اس قانون کو کیوں محدود کیا گیا ؟کیا یہی انصاف اور مساوات ہے؟۔
ناٸب صدر جمہوریہ ہند نےملک کے ستر سالہ جمہوری سفر طے کرنے پر ملک کے لوگوں کو مبارکباد پیش کی ہےدرحقیقت اس مبارکباد کے مستحق ملک کی عوام اور وہ حکمران ہیں جنہوں گزشتہ چونسٹھ سالہ جمہوری سفر طے کیا لیکن جمہوریت کو تاناشاہی میں نہیں بدلا اور کبھی آٸین پرحملہ آور ہونے کی کوشش نہیں کی ،مودی حکومت نے تو صرف چھ سالہ دورحکومت میں جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا اور ہندٶوں کے جھوٹے تحفظ کے نام پر ،گاۓ گوبر کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم کی حدیں پار کردیں،آج ملک کی کمپنیاں اس اس طرح فروخت کی جارہی ہیں جس سے اندیشہ ہے کہ یہ ملک چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں چلاجاۓ گا،مودی حکومت مہاتماگاندھی کے قاتل گوڈسے کے حامیوں کو خوش کرنے میں لگی ہے اسی لیے ان کی زبانوں کو لگام دینے کو تیار نہیں ہے بلکہ اندرخانہ گوڈسے فکر کو ہی طاقت بخشی جارہی ہے ،ایک طرف ناٸب صدر جمہوریہ کہتے ہیں کہ”ملک کی جمہوریت شہریوں کو اختلاف اور عدم اعتماد کو ظاہر کرنے کا مناسب موقع دیتی ہے “دوسری طرف مودی حکومت کا مظاہرین کی آواز کو دبانا،اور اس کے لیے 144 کا نفاذ کردینا،اور عام مظاہرین اور طلبہ کو پولیس کے ذریعہ ہراساں کیا جانا ،کیا یہ قول و فعل کاتضاد نہیں ہے یوپی کی یوگی سرکار نے تو ظلم کا وہ ننگا ناچ کیاہے کہ ہندوستان کاسر شرم سے جھک گیاہے ،اب جب بین الاقوامی سطح پر انصاف کی آواز بلند ہو رہی ہے تو ناٸب صدر جمہوریہ کو داخلی معاملہ میں بیرونی مداخلت پر تشویش ہے۔
محمد تسکین جامعی ڈاٸرکٹر اداره الامین اکیڈمی، مصوریہ،ارریه،بہار

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close