ارریہ

ارریہ : یہ لڑائی آزادی اور آئین بچانے کی لڑائی ہے : اختر الایمان

ارریہ (معراج خالد) ملک کی معروف سیاسی تنظیم کل ہند مجلس اتحاد المسلین ارریہ ٹیم کی جانب سے جوکی ہاٹ کے بھیبھرا چوک میں ایک عظیم الشان سی اے اے این آر سی و این پی آر کے خلاف احتجاجی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیاجس کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ مقرر مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی نے فرمائی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اختر الایمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب سے مودی نامی منحوس سیاست میں نمودار ہوا ہے تب سے گنگا جمنی تہذیب پامال ہونے شروع ہوئے یاد رکھئےجب انا ربکم الاعلی کا دعوی کرنے والے فرعون کو خدا نیست ونابود کر سکتا ہے اسے تا قیامت لوگوں کیلئے عبرت بنا سکتا ہے تو اس کا بھی انجام بڑا ہونے والا ہے مرکزی و ریاستی دونوں سرکار حکومت چلانے میں ناکام ہو چکی ہے عوام کی ذہن کو بھٹکانے کیلئے اپنی سیاسی روٹی سینکنے کیلئے ان مدعو کو اچھال رہی ہے یہ لڑائی آزادی اور آئین بچانے کی لڑائی ہے
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ریاست بہار کے یوتھ صدر عادل حسن آزاد نے کہا این آر سی کی پہلی سیڑھی این پی آر ہے اور بہار سرکار این آر سی کی مخالفت کی بات کر رہی ہے لیکن این پی آر کی تاریخوں کا اعلان کر چکی ہے اسی طرح مرکز میں بیٹھے بھیڑیا دل لوگ پورے ہندوستان کے لوگوں کو پریشان کرنے کی مقصد سے ہندوستان کی آئین کو مسخ کر اپنا قانون نافذ کرنا چاہ رہی ہے یاد رکھئے یہ ہندوستان جمہوری ملک ہے جب تک اس ملک کے جانباز زندہ ہیں تب تک وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے ایم آئی ایم ارریہ کے ضلع کے صدر راشد انور نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت آگیا ہم کاندھا سے کاندھا ملا کر یہ جنگ لڑیں یہ جنگ ہندو مسلمان کا نہیں عوام بنام حکومت ہے جس طرح آئین کی دھجیاں اڑانے میں مودی شاہ پیش پیش ہیں نتیش کی حمایت بھی انہیں اسی صف میں لا کھڑا کرتی ہے لہذا نتیش بھی آئین مخالف سرگرمی کا ایک رکن ہے ان سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے
اسی بیچ بی جے پی اقلیتی سیل کے نائب ریاستی صدر و جوکی ہاٹ نمبرحلقہ نمبر 24 کے ضلع پارشد گلشن آرا نے ایم آئی ایم کی رکنیت حاصل کی گلشن آرا نے کہا کہ ہم ہر چیز کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن جمہوریت سے کھلواڑ ناقابل برداشت ہے قاری جسیم الدین حسامی کی نظامت میں یہ پروگرام بحسن خوبی اختتام پذیر ہوا اس موقع پر قاضی عتیق اللہ رحمانی قاضیٔ شہر ارریہ کشن گنج ایم آئی ایم کے سکریٹری قاری محبوب عالم قاری فیاض راہی شاہد خان مولانا آفاق و ابو الکلام کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close