ارریہ

مفتی جنید احمد قاسمی کی عربی تصنیف "العلامۃ المحقق السید مناظر أحسن الکیلانی‘‘ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد

یہ چیلنج کا دور ہے، نوجوان نسل اس کے مقابلے کے لیے خود کو تیار رکھیں : جامعہ ممتاز العلوم ڈومریا میں منعقد استقبالیہ تقریب میں علماء کرام کا اظہار خیال

ڈومریا ، ارریا 13, جون/ اتوار 2021: ( زبیر احمد ثانؔی ڈومریا) نوجوان عالم دین اور مشہور مصنف مولانا مفتی جنید احمد قاسمی کی عربی تصنیف : "العلامۃ المحقق السید مناظر أحسن الکیلانی: حیاتہ و مآثرہ” کی ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ: دارالعلوم دیوبند سے اشاعت پر کل رات جامعہ ممتاز العلوم ڈومریا میں مفتی جنید احمد قاسمی کے اعزاز میں انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد ہوا-

تقریب کا آغاز قاری عین الدین صاحب استاذ مدرسہ فیض المنت ڈومریا کی پر سوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا- تلاوت کے بعد شہزاد سلمہ نے نعتِ رسولِ مقبولﷺ پیش کی اس کے بعد جواد علی زخمی نے صاحب کتاب کے اعزاز میں ثانی ارریاوی کا لکھا ہوا تہنیت نامہ پیش کیا-
اس کے بعد مولانا زبیر احمد ثانؔی قاسمی فاضل دارالعلوم دیوبند نے کتاب اور صاحب کتاب کے تعارف میں جامع و مختصر اور کلیدی خطبہ پیش کیا, جس میں موصوف نے صاحب کتاب کی علمی خدمات کو اجاگر کیا-
دریں اثناء اپنے کلیدی خطبہ میں جہاں دیدہ عالم دین مفتی شمشیر حیدر قاسمی نے صاحب سوانح علامہ سید مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان و قلم اور زندگی کو واضح کیا اور فرمایا کہ: "علامہ مرحوم نے جب اپنی طالب علمی میں "سیرت ابوذر غفاری” تصنیف فرمائی اور یہ کتاب حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے پاس پہنچی تو حضرت نے فرمایا:” اس کتاب کا مصنف بہت بڑا محقق معلوم ہوتا ہے اور اگر محقق نہیں ہے تو یہ کتاب اس کے آئندہ محقق ہونے کی دلیل ہے، پھر دو تین سال بعد یہی کتاب صاحب طرزِ ادیب مولانا عبد الماجد دریابادی کے پاس پہنچی تو ان کا بیان ہے کہ اس کتاب کی جلد انتہائی بوسیدہ اور ناقابلِ التفات تھی سو میں نے نہیں پڑھی پھر بعض احباب کی فہمائش اور اصرار پر اس کا مطالعہ کیا تو میں نے کتاب اور صاحب کتاب کو داد نہ دینا بہت بڑا گناہ اور جرم عظیم تصور کیا” مفتی شمشیر حیدر نے فرمایا کہ میں نے جب مفتی جنید احمد قاسمی صاحب کی کتاب پڑھی تو یہی سمجھا کہ : حضرت کو داد نہ دینا میرے لیے گناہ کا کام ہوگا-
دریں اثناءمولانا جرجیس اکرم قاسمی قاضی شریعت بیگوسرائے نے کہا کہ: موصوف مفتی صاحب کو میں زمانۂ طالب علمی سے جانتا ہوں، میں ضلع ارریہ کی انجمَن کا ناظم اور مفتی صاحب صدر تھے- جب بھی آپ کے کمرے پہنچتا آپ کو کتابوں میں منہمک پاتا – بہت کم وقت میں آپ کے پاس بیٹھتا,ضروری باتیں پوچھتا اور آپ کو کتابوں میں مشغول چھوڑ کر آجاتا – کتابوں سے آپ کے عشق اور لگاؤ کو دیکھ کر مجھے یقین سا ہو گیا تھا کہ : آگے چل کر مفتی صاحب بڑا کام کریں گے۔ مفتی صاحب کی اس کتاب نے میرے تصور کو صحیح ثابت کر دیا-

اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا ظہیر الحسن مظاہری نے کہا: عربی زبان میں جس کا ہمارے دیار میں نہ چلن ہے نہ رواج ہے، اس زبان میں اتنی ضخیم اور مواد سے بھرپور کتاب کی تصنیف کسی کرامت سے کم نہیں، میری دانست میں ہمارے سیمانچل حلقے میں عربی زبان میں اتنی ضخیم کتاب اب تک نہیں لکھی گئی تھی-
اسی طرح مفتی دلشاد احمد نعمانی جنرل سکریٹری جمعیت علماء رانی گنج بلاک نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: میں مفتی موصوف کو زمانۂ طالب علمی سے جانتا ہوں، ان کی چال ڈھال طور و طریق سے تو میں پہلے ہی متاثر تھا؛لیکن جب تحریروں کو دیکھا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، میں نے موصوف کو دیکھا کہ مختلف موضوعات پر قلم فرسائی کر رہے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ ان موضوعات پر دیگر اصحابِ قلم خامہ فرسائی کرتے رہیں گے آپ علماء بہار کی علمی خدمات کو اجاگر کیجیے! علامہ سید مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے تعلق سے کیا گیا کام انہیں خوابوں کی تعبیر ہےـ
معروف عالم دین مولانا محمود عالم قاسمی استاذ حدیث شریف جامعہ جلالیہ ہوجائی آسام نے اپنے بیان میں اپنے اور صاحب کتاب کے درمیان رابطے اور تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: ہمارے درمیان بڑے گہرے تعلقات ہیں اور اس تعلق کی ڈور اور بنیاد موصوف کی بے باک زبان اور رواں دواں قلم ہے-
اسی طرح اپنے بیان میں مولانا محمد نوشاد عالم قاسمی امام و خطیب علی گڑھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ موصوف کا یہ علمی کارنامہ ہم سب کے لیے حیران کن اور تعجب خیز ہے، ہم سب معاصر کے لیے مفتی صاحب مشعلِ راہ ہیں-
موصوف صاحبِ کتاب کو انتہائی قریب سے دیکھنے والے نوجوان عالم دین مولانا عبد الوہاب قاسمی استاذ اقرأ پبلک اسکول سیوان بہار نے مشہور مصرع :” اللّٰہ کرے زورِ قلم اور زیادہ” کے ذریعے صاحب کتاب کو دعا دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا-
مولانا منصور ابنِ توحید عالم ندوی نے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور صاحب کتاب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کتاب کو بیس لائبریریوں تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا-
اس کے بعد صاحب کتاب نے اپنی زندگی، تصنیفی مراحل، اس کی دشواریوں تمام گوشوں پر پرمغز خطاب کیا اور کہا کہ مجھے متعدد علمی حلقوں عرب ممالک سے اس کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی گئی موصوف نے تمام معاونین محبین و متعلقین کا شکریہ ادا کیا –
مہتمم جامعہ ممتاز العلوم نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس تقریب پر نیک خواہشات اور اجلاس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا-
گاؤں کے ہردل عزیز رہنما اور خدمت خلق میں ہمہ وقت و ہمہ تن مصروف و مشغول، خوردوں کی حوصلہ افزائی اور علماء ومشائخ کے زبردست حامی اور محبت کرنے والے فعال چئیرمین، جناب سجاد صاحب نے بھی حوصلہ افزائی کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ اکیس کتابیں خرید کر علماء کبار کی خدمت میں پیش کریں گے؛ تاکہ مصنف کی مکمل حوصلہ افزائی اور ضلع ارریا خصوصاً ڈومریا کے اس قیمتی ہیرے کی چمک دمک سب دیکھ لیں اور ان سے روشناس ہوںـ
اخیر میں مولانا وحافظ غیاث الدین صاحب رحمانی کے مختصر وعظ و نصیحت اور دعا ء پر جلسے کا اختتام ہوا-
تقریب میں علماء و مشائخ دین کے علاوه جامعہ ممتاز العلوم کے حفظ کے بیس طلبہ نے بھی شرکت کی-
اس کے بعد چئرمین سجاد عالم ہی کے دولت کدہ پر بہترین عشائیہ کا اہتمام کیا گیا موصوف چئیرمین صاحب نے بڑی فراخدلی اور وسعت قلبی سے مہمانوں کا اعزاز و اکرام کیا اور خوب خوب مہمان نوازی کی- مہمان علماء کرام نے موصوف کو برکت اور ترقی نیز دینی جذبات واحساسات میں اضافے کی دعا دی اور علیک سلیک کے بعد تمام مہمان رخصت ہوئے-

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close