ارریہ

ارریہ کے ممبر پارلیمنٹ پردیپ کمار سنگھ کے متنازعہ بیان پرمسلمانوں میں سخت ناراضگی، وزیراعلیٰ سے گرفتاری کامطالبہ

دیوبند ،23؍مئی (رضوان سلمانی ) سماجی کارکن و صحافی شاہنوازبدرقاسمی نے ارریہ کے بی جے پی ممبرپارلیمنٹ پردیپ کمار سنگھ کے حالیہ متنازعہ بیان پر سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک فرقہ واریت کا وائرس ہے جس پر کنٹرول بیحد ضروری ہے،کورونا کے خاتمہ کیلے ویکسین توتیارکرلی گئی لیکن فرقہ واریت کاوائرس کاخاتمہ اس ملک میں کیسے ممکن ہے ہمیں مل جل کراس کاحل تلاش کرنا چاہئے ورنہ مستقبل میں اس کے نتائج بہت خطرناک ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست پارٹی بھاجپا سے تعلق رکھنے والے کچھ لیڈران ایسے متنازعہ بیانات دے کر سستی شہرت حاصل کرنے کے ساتھ پرامن ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں، بہار کے وزیراعلی نتیش کمار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے متعصب اور فسادی ذہن رکھنے والے ایم پی کو فوری گرفتار کرے اور ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔بہار امن وسکون کاگہوارہ اور ہندومسلم اتحاد کامرکز رہا ہے اس لئے ایسے نفرت آمیز بیان کو نظر انداز نہ کیاجائے اور اس کی تحقیقات کراکر اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

شاہنوازبدر نے کہاکہ ایسے واہیات اور بکواس بیان کے ذریعے مسلمانوں کی دل آزاری اور انہیں خوف زدہ کرنے کی کوشش ہرگز ناقابلِ برداشت ہے اس لئے ایسے نام نہاد نیتاؤں کو سبق سیکھانا بیحد ضروری ہے_واضح رہے کہ ایم پی پردیپ کمار سنگھ نے چند دنوں قبل صدر ہاسپٹل ارریہ میں کورونا ویکسین نہ لینے والے مسلمانوں کے تعلق سے کہاتھاکہ ”مارو سالوں کو، دنگا کرو، کاٹ کر بھگاؤ اسے” اس متنازعہ بیان کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعدپورے ملک کے خاص طور پر بہار کے مسلمانوں میں سخت غصہ اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close