ارریہ

محمودیہ جوگبنی،ارریہ میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ مجلس و قرآن خوان

بلند پایہ عالم دین، مقبول مقرر، نامور صاحب قلم، بالغ نظر، بلند نگاہ، روشن ضمیر، بیدار مغز، دور اندیش، جری اور بیباک قائد سے ہم سب محروم ہوگئے : مولانا محمدامجدبلیغ رحمانی ، ناظم مدرسہ محمودیہ جوگبنی ضلع ارریہ بہار

بلند پایہ عالم دین، مقبول مقرر،  بالغ نظر، بلند نگاہ، روشن ضمیر، بیدار مغز، دور اندیش، جری اور بیباک قائد سے ہم سب محروم ہوگئے : مولانا محمدامجدبلیغ رحمانی ، ناظم مدرسہ محمودیہ جوگبنی ضلع ارریہ بہار

ارریہ 6 اپریل ( ہندوستان اردو ٹائمز) مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ کے سانحہ ارتحال سے پورا ملک ہی نہیں بلکہ عالم اسلام سکتے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے ۔ انتقال کی خبر ملتے ہی ہر جگہ دعاؤں کا اہتمام اور تعزیتی نشست رکھی جارہی ہے ۔آج مورخہ 6اپریل 2021 کو مدرسہ محمودیہ جوگبنی ضلع ارریہ میں حضرت علیہ الرحمہ کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ مجلس رکھی گئی، جس میں حضرت کے کارناموں کو یاد کیا گیا ۔

اس موقعہ پر مدرسہ محمودیہ جوگبنی کے ناظم مولانا محمد امجدبلیغ رحمانی نے تعزیتی کلمات میں کہا کہ حضرت امیر شریعت علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ عالم دین، مقبول مقرر، نامور صاحب قلم، اور زمانہ شناس سیاست داں تھے، آپ نے اپنی دینی ، ملی اور علمی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔آپ بالغ نظر، بلند نگاہ، روشن ضمیر، بیدار مغز، دور اندیش، جری اور بیباک قائد تھے، آپ اپنی ذات میں انجمن تھے ۔آپ ایسی شخصیت کے مالک تھے جو اپنے عہد سے زیادہ بعد کے زمانوں میں ہمیں زندہ نظر آئیں گے ۔زبان کی طرح آپ کا قلم بھی بولتا تھا، علم و ادب کی ایسی جامعیت نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے، جس چیز کو غلط سمجھا اس کی تردید و تنقیص میں زمین و آسمان ایک کردیئے، جس بات کو حق سمجھا اس کی حمایت میں پس و پیش نہیں کرتے چاہے موج خون ہی سر سے کیوں نہ گذر جائے، حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ تھے، آپ کی ذات گرامی طاہر مطہر تھی، آپ ایسے عالم ربانی اور مرشد کامل تھے کہ” دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں” کے حقیقی مصداق تھے۔ آپ نے اپنے تمام عہدوں کو پورے حسن کے ساتھ سینچا، اب حضرت علیہ الرحمہ ہمارے درمیان نہیں رہے مشیت ایزدی یہی تھی، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ حضرت کے چھوڑے ہوئے کاموں آگے بڑھائیں، اور ہمیشہ حضرت کے رفع درجات کی دعاء کرتے رہیں ۔یہی سب سے بہتر خراج تحسین ہوگا۔

اس موقعہ پر مدرسہ محمودیہ جوگبنی کے اساتذہ کارکنان اور عمائدین شہر اور طلباء موجود تھے، جس میں مولانا محمد گوہر نیازی رحمانی ،مولانا محمد شعیب عالم قاسمی، حافظ محمد خالد رحمانی ،قاضی محمد اسعد عثمانی، مولانا محمد اصغر علی قاسمی، مولانا محمد الفت حسین مظاہری، ماسٹر افروز انصاری،ماسٹر سکندر صاحبان وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
تمہی سوگئے داستان کہتے کہتے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close