ارریہ

جمعیت علماء ارریہ کے زیراہتمام تعزیتی اجلاس۔ملت اسلامیہ ہند ایک صاحب بصیرت جرأت مند ملی قائد سے محروم ہو گئی

ہم سب ان کے نقوش حیات کو مشعلِ راہ بنا کر ان کے حسین خوابوں کی تعبیر کے لئے جدوجہد کریں گے: محمداطہرالقاسمی

ارریہ 6 ، اپریل (ہندوستان اردو ٹائمز) عالم اسلام کی نامور مقتدر شخصیت،قائد ملت اسلامیہ ہند مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی نور اللہ مرقدہ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ وسجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی تجہیز و تکفین کے بعد پورے ملک میں ایصال ثواب کا سلسلہ جاری ہے۔اسی ضمن میں جمعیت علماء ارریہ کے زیراہتمام ضلع کے تمام 9/بلاکوں کی مقامی جمعیتیں تعزیت کا اہتمام کرکے ان کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کررہی ہیں اور ان کی یادیں اور باتیں سامنے لاکر انہیں اپنی زندگی کے لئے راہ عمل بنانے کے عزائم لئے جارہے ہیں۔ اسی سلسلے میں جمعیت علماء ارریہ کی ضلعی یونٹ نے ایک تعزیتی اجلاس جامع مسجد مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ میں منعقد کیا۔

اجلاس کی صدارت ضلعی صدر ڈاکٹر عابد حسین نے اور حسن نظامت جنرل سکریٹری مفتی محمد اطہر القاسمی نے کی۔تعزیتی اجلاس میں جمعیت علماء ارریہ کے اراکین و رضاکاران کے ساتھ کثیر تعداد میں باشندگان ضلع ارریہ شریک ہوئے۔اولا تمام شرکاء اجلاس نے حضرت امیر شریعت علیہ الرحمہ کی روح کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کیا اور پھر شرکاء نے مختصراً اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔

جمعیت علماء ارریہ کے ضلعی صدر ڈاکٹر عابد حسین نے کہا کہ غالباً 1984 کا واقعہ ہے جب ضلع ارریہ میں بنگلہ دیشی گھس پیٹھیا کا معاملہ حکومتی سطح پر اٹھایا گیا تو حضرت امیر شریعت نے ضلع ہیڈکوارٹر میں ایک زبردست احتجاجی پروگرام کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کو چیلنج کیا اور یوں یہ فتنہ اپنی موت آپ مر گیا۔مگر آج ہم اس عظیم قائد سے محروم ہو گئے ہیں۔

جنرل سکریٹری مفتی محمد اطہر القاسمی نے اشکبار آنکھوں سے حضرت والا علیہ الرحمہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک وملت انتہائی،مشکل،کٹھن اور دشوار گزار دور سے گذرر رہی تھی اور رفتہ رفتہ اکابرین علماء دیوبند رخصت ہورہے تھے؛حضرت امیر شریعت کا اچانک رخصت ہوجانا ایسا عظیم سانحہ ہے جس کی تلافی دوردور تک ممکن نظر نہیں آتی۔وہ جس پختگی،بےباکی،بہادری،بصارت و بصیرت اور جرات و عزیمت کے ساتھ مسلم پرسنل لاء بورڈ،امارت شرعیہ،مدارس اسلامیہ،شعائر اسلام اور ملت اسلامیہ ہند کی ترجمانی کررہے تھے،نوجوان نسل کی آبیاری اور ان کی تعمیر وترقی کے لئے جدوجھد اورفرقہ پرستی کے نشے میں چور اسلام مخالف قوتوں کو دنداں شکن اور حکمت و بصیرت سے لبریز مسکت جواب دے رہے تھے؛وہ تو ان ہی کا خاص وصف تھا۔جس میں دور دور تک کوئی ان کا ثانی نظر نہیں آتا۔مرضی مولیٰ کہ ملت اسلامیہ اس عظیم ملی قائد سے محروم ہوگئی۔انشاءاللہ ہم لوگ جب تک زندہ رہیں گے ان کے نقوش حیات کو مشعل راہ بنا کر ان کے حسین خوابوں کی تعبیر کے لئے جدوجھد جاری رکھیں گے۔
نائب صدر مولانا شاہد عادل قاسمی نے کہا کہ ان کی وفات سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔اب ان کے جانشینوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ان کے مشن کو جاری رکھیں۔نائب صدر مفتی ہمایوں اقبال ندوی نے کہا کہ حضرت امیر شریعت کی رحلت سے بظاہر ملت اسلامیہ ہند یتیم ہوگئی ہے۔خداوند عالم سے دعاء ہے کہ وہ اپنے اس مرد مجاہد کا نعم البدل عطافرمائے۔

جمعیت علماء بلاک رانی گنج کے نائب سکریٹری قاری شہنواز عالم نے کہاکہ ضلع کے رانی گنج کا ڈومریا گاؤں حضرت والا کا گویا مسکن تھا جو آج ان کی رحلت سے گویا سنسان و ویران ہو گیا ہے۔نائب سکریٹری جمعیت علماء ارریہ و امام و خطیب جامع مسجد یتیم خانہ نے حضرت والا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےکہا ہے انشاءاللہ ہم سب ان کی زندگی کو مشعل راہ بناتے ہوئے ان کے عزائم پر کاربند رہیں گے۔

بزرگ عالم دین حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی چکنی گریا کی رقت آمیز دعاء پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
تعزیتی اجلاس میں بطور خاص امارت شرعیہ ارریہ کے قاضی شریعت قاضی عتیق اللہ رحمانی،جمعیت علماء ارریہ کے نائب صدر مولانا مصور عالم ندوی،جمعیت علماء بلاک ارریہ کے صدر مولانا عمر فاروق قاسمی،سکریٹری مولانا راغب عالم قاسمی،جوائنٹ سکریٹری مفتی محمد خالد قاسمی،جوائنٹ سکریٹری مفتی محمد ثاقب قاسمی،معروف صحافی جناب عارف اقبال،بھائ محمد عارف وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close