ارریہ

ایک جنازہ جس میں خلق خدا کا ہجوم امڈ پڑا. تاثرات:محمداطہرالقاسمی

تاثرات:محمداطہرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیت علماءارریہ

ہم مسلمانوں کی بہت ساری خوبیوں کے درمیان ایک بڑی خامی یہ ہے کہ ہم اپنوں کی قدر بعد از مرگ کرتے ہیں۔
اللہ کی بنائی ہوئی اس خوبصورت زمین نے نہ جانے اب تک ہمیں کتنے لعل و گہر عطاء کئےمگر ہم تھے کہ ہم ان کی زندگی میں ان کی قدر نہیں کرسکے۔
آج ہی کا حادثہ دیکھئے کہ ہم سب جس بے لوث،مخلص،جفاکش،سخی،مظلومں کے مسیحا،غریبوں کے آسرا،بےسہاروں کے سہارا اور ظالموں و متکبروں کے لئے ننگی تلوار۔۔۔۔۔۔جیسے الفاظ سے آج ہم جس مرحوم بھائی حیدر عرف بابا صاحب کو پل پل یادکررہے ہیں اور اچانک اس داغ مفارقت پر حددرجہ شکستہ دل اور بےحد حزن و ملال میں گرفتار ہیں۔۔۔۔۔جس کی واضح مثال ان کے جنازے کی نماز میں خلق خدا کا ہجوم ہے۔
مگر کیایہ انسانی ہجوم ان کی جہد مسلسل سے عبارت ان کی زندگی میں ان کے حوصلے کو بلند کرسکا،ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ان کے ساتھ دوقدم آگے چل سکا؟
نہیں نہیں بالکل نہیں۔وہی ساتھ چلے جو ان کے اپنے تھے۔جو ان کے شناسا تھےاورجن کی ضرورت ان سےوابستہ تھی۔حالانکہ آج سب لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں کہ وہ سب کے لئے سوچتے تھے،بولتے تھے،سنتے تھے،کرتے تھے،لڑتے تھے،دوڑتے تھے۔
میں کل سے مسلسل سوشل میڈیا پر دیکھ رہاہوں کہ سب ان کےطویل ترین کارناموں کو یادکرکرکے اپنا غم ہلکا کررہے ہیں۔
اور آج جب جنازے میں شریک ہوا تو ضلع ارریہ کے قلب میں واقع آزاد اکیڈمی کےبےمثال وسیع و عریض میدان میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی،تاحدنگاہ انسانوں کا سمندر ہی سمندر نظر آرہا تھااور جب جنازہ گھر یس منزل ارریہ سے نکلا تو اپنے تو اپنے بے شمار غیر مسلم ماؤں،بہنوں اور بزرگوں کو دیکھاکہ وہ ہاتھ جوڑے نمناک آنکھوں سےان کے جنازے کو اپنے الفاظ میں خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔مجھے تو چلتے چلتے اور کھڑے کھڑےکئی بار چکر آنے لگا اور حلق خشک ہونے لگا۔بمشکل دوگھنٹے کی مزاحمت سے گھر واپس آسکا۔اللہ اکبر،اللہ اکبر۔اللہ اس ہردلعزیز بندے کی بال بال مغفرت فرمائے،جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائےاور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
میں کیا بتاؤں!
ارریہ کی دھرتی کے اس قیمتی لعل کے شیدائیوں کا ہجوم آج دیکھاتو دم بخود رہ گیا۔میری عقل نارسا کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ انسانوں کا سمندر اس قیمتی انسان کی موت کے بعد آج اس بندے کے جنازے میں پسینہ بہابہاکر کھڑا ہے؟آخر تو اس بندہ خدا میں کچھ خوبیاں رہی ہوں گی!
بات طویل ہوگئی۔
معذرت خواہ ہوں کہ آپ کا اتنا وقت لے لیا۔
مجھے آج اپنے ذاتی تعلقات بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ آج لگا کہ وہ سب کی ضرورت تھے۔جو خوبیوں سے مالامال اپنی خوبصورت شخصیت کو اپنے سفید لباس میں چھپاکر اپنی قبر میں لے کر ہمیشہ کے لئے دفن ہوگئے!
بس ایک آخری بات کہ کر بات ختم کرتاہوں کہ
میرے مسلم بھائیو!ایمانی دوستو!
موجودہ دنیا کے ساتھ ہمارے دیش کی فضاء کیسی خطرناک ہوچکی ہے۔اس سے آپ سب واقف ہیں۔یہ پھر بھی غنیمت ہے مستقبل تو اور تاریک معلوم ہورہی ہے۔
بس خدا رادست بستہ عرض ہے کہ آپ کے اردر گرد،آپ کے علاقے اور سماج میں جس شعبہ کے جس شخص میں آپ کو کچھ بھی خوبی یاجوہر نظر آئے،آپ اسے نظر انداز مت کیجئے،اپنے ذاتی عناد،بغض،کینہ،عداوت اور ہر قسم کی رنجشوں کو پاؤں تلے دباکر ان سے کام لےلیجئے،ان کی حوصلہ افزائی کیجئے،ان کی ہمت بڑھائیے،ان کو ہنسائے،انہیں کسی حال میں رونے مت دیجئے،ان کا ساتھ دیجئے،ان کو اکیلا ہرگز مت چھوڑئیے،ان کے شانہ بشانہ چلئے،وہ آپ کے لئے،قوم کے لئے،جماعت کے لئے،اجتماعیت کے لئے،ملک اور ملت کے لئے اگر ایک قدم آگے بڑھائے تو آپ دس قدم آگے بڑھ کر ان کے قدم سے قدم ملائیے۔ انسانی تقاضے کی بناء پر ان سے اگرغلطی سرزد ہوجائے تو انہیں درگزر کیجئے،یااکیلے میں ان کا ہاتھ پکڑلیجئے،سرعام انہیں رسوا مت کیجئے،انتقامی جذبے کو کبھی بھی اپنے سینے میں پنپنے مت دیجئے اوریادرکھئے کہ یہ دور،دور قحط الرجال ہے،یہاں جو بھی آپ کے لئے مخلص بن کر کھڑا نظر آجائے اسے غنیمت سمجھئےاور انہیں اپنے سینے سے لگا لیجئے۔
بس وہی پہلی بات کہ قبل اس کے کہ ہمارے بیچ کاکوئی بابا اچانک ہمیں داغ مفارقت دے جائے تو قلق اور ملال نہ رہے کہ آہ!
کیسے تھے وہ،ایسے تھے وہ،کتنے اچھے تھے وہ۔۔۔۔مگرجب ایک قدم پیچھے مڑکر ہم دیکھیں تو زمین کی سچائی یہ بتائے کہ اےکاش!
اس بندہ خدا کی زندگی میں ہم ان کی قدر نہیں کرسکے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close