بہارتعلیم

اردومترجم کے نتائج میں شفافیت کافقدان ،بڑے پیمانے پر بدعنوانی کااندیشہ

بی ایس ایس سی کے اقدامات سوالوں کے گھیرے میں،اردواداروں اورشخصیات سے مضبوط آوازاٹھانے کی اپیل

پٹنہ 11جون (هندوستان اردو ٹائمز) اردومترجم کی بحالی کے لیے آئے نتائج میں بڑی دھاندھلی اورمبینہ بدعنوانی کاالزام لگایاجارہاہے۔کیوں کہ اس معاملے میں بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کے کئی اقدامات ایسے ہیں جوشک کوبڑھاتے ہیں کہ کہیں پوری دال کالی تونہیں ہے۔بہارمیں مجلس اتحادالمسلمین کے فلورلیڈرجناب اخترالایمان نے بھی اس پرآوازاٹھائی ہے اورکئی اہم سوال کیے ہیں۔

تفصیل کے مطابق اردوڈائریکٹوریٹ کے تحت ہونے والی ملازمت کے لیے بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن نے جنوری 2021میں اردومترجم کاامتحان لیا۔تقریباچھ ہزارشرکائے امتحان تھے۔اردومترجم کے لیے 202سیٹیں وضع کی گئیں۔جب نتائج آئے توصرف 184امیدواروں کوکامیاب قراردیاگیا۔اس کی وجہ بھی آفیشیل طورپرنہیں بتائی گئی ہے کہ ان میں 18سیٹوں کے نتائج کہاں ہیں؟۔خیران امیدواروں کوکاﺅنسلنگ کے لیے بلایاگیا۔ پھردوسری فہرست نکالی گئی جس میں تین سوسے زائد(یعنی ویکنسی سے بھی ڈیڑھ گنا )رول نمبرشائع کیے گئے ہیں کہ پہلی فہرست سے مطلوبہ سیٹ مکمل نہیں ہورہی ہے،اس لیے اب انھیں بلایاگیاہے۔(یہ کتنی مضحکہ خیزبات ہے کہ پہلی فہرست میں عہدوں سے کم امیدواربلائے جاتے ہیں اوردوسری فہرست میں عہدے سے ڈیڑھ گناامیدوار،جب کہ ایک فہرست پہلے آچکی ہے۔)

بی ایس ایس سی پرپہلاسوال یہی ہے کہ اب دوسری فہرست میں تین سو سے زائدامیدواروں کوکس بنیادپربلایاگیا،کیوں کہ بی ایس سی نے کوئی ویٹنگ لسٹ جاری نہیں کی تھی۔اورنہ میرٹ یاکٹ آف جاری کیاہے۔پھران تین سو امیدواروں کے نام کی وجہ ترجیح کیاہے۔اب دوسری فہرست کے امیدواروں کی بھی کونسلنگ ہوگئی۔لیکن جب دونوں فہرست سے بی ایس سی نے کونسلنگ کی بنیادپرلسٹ نکالی توصرف 149امیدوارکامیاب قراردیے گئے۔یہ وجہ بھی نہیں بتائی کہ باقی 53سیٹوں کے لیے نتائج کب آرہے ہیں؟بی ایس ایس سی نے یہ بھی نہیں بتایاکہ ان 149کولینے کی وجہ کیاہے۔

ان کے پاس کون کون سے ڈاکیومنٹ پورے ہیں۔ان کاکٹ آف یامیرٹ کیاہے۔اوردونوں فہرست سے تین سوسے زائدجن امیدواروں کوچھانٹاگیاہے،اس کی وجہ کیاہے۔یہ بھی نہیں بتایاگیاکہ کس زمر ے میں کتنی سیٹیں خالی ہیں۔امیدواربی ایس ایس سی کے اس رویہ سے سخت ناراض ہیں۔ان کامطالبہ ہے کہ سبھی امیدواروں کامیرٹ جاری کیاجائے تاکہ ہرامیدوارکوپتہ چلے کہ اس کوکتنانمبرملاہے ۔کٹ آف بتایاجائے کہ کتنے نمبرپرتقرری ہورہی ہے۔اورکن ڈاکیومنٹ کی بنیادپرانھیں لیاگیاہے یاجنھیں ہٹایاگیاہے ہررول نمبرکے ساتھ بتائے کہ ان کاکون ساڈاکیومنٹ پورانہیں تھا۔کمیشن کس ضابطے کے تحت امیدواروں کوکامیاب اورناکام قراردے رہاہے،وہ اپنی پالیسی اورپیمانہ کیوں نہیں بتاتا۔کیاکمیشن کی سازش یہ ہے کہ کسی طرح یہ معاملہ کورٹ میں جائے اوراردوکی تقرری کامعاملہ ایساالجھے کہ اردووالوں کونقصان ہو۔ اگر ایسا ہے تومحترم وزیراعلیٰ نتیش کمارکوبی ایس ایس سی سے سختی سے سوال کرناچاہیے ۔اس سے وزیراعلیٰ پراردووالوں کااعتبارمزیدبڑھے گا۔ایسی ناانصافی جن لوگوں کے ساتھ ہوئی ہے ان میں افروزنہال،ڈاکٹرعشرت صبوحی سمیت سینکڑوں طلبہ وطالبات ہیں۔افروزنہال نے یہ مذکورہ سوال بھی اٹھائے ہیں اور امیدواروں سے اپیل کی ہے کہ اپنے خلاف ناانصافی پرمضبو ط لڑائی لڑی جائے۔

انھوں نے یہ بھی سوال کیاکہ جب بی ایس ایس سی دوسرے امتحانات میں پرانے کریمی لیئرسرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے مہلت دے سکتی ہے اورتمام متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کرسکتی ہے کہ فارم بھرنے سے پہلے کی تاریخ میں ریزرویشن سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں تواردومترجمین کے ساتھ یہ سوتیلاسلوک کیوں؟ سرکار پرانی تاریخ کے این سی ایل بنانے کامتعلقہ محکموں کوحکم جاری کرے۔انھوں نے یہ بھی پرزورمطالبہ کیاہے کہ بی ایس ایس سی اردومترجم کی باقی بچی سیٹوں کے لیے بھی جلدنتائج جاری کرکے کاﺅنسلنگ کرائے اوربتائے کہ کس زمرے کی کتنی سیٹ خالی رہ گئی ہے۔انھوں نے بہارکے اردوکے متعلقہ اداروں،انجمنوں اوراردوکے سرکردہ افراداورشخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت تک ہماری بات پہونچائیں،نتیش کمارجواقلیت اوراردوکے لیے کافی سنجیدہ ہیں،اقلیتی اداروں اوراردواداروں کے لیے ان کی خدمات قابل تعریف ہیں،اس پرازخودنوٹس لے کربی ایس ایس سی کوان تمام امورپرہدایات جاری کریں نیزسیاسی پارٹیوں کے اردوکے بہی خواہ لیڈروں سے بھی اس معاملے کومضبوطی سے اٹھانے کی اپیل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button