دیوبند

ادیب و شاعر عبدالرحمن سیف عثمانی کی دو کتابوں کا رسم اجراء

عبد الرحمن سیف کی تحریریں زبان کی حلاوت بھی عطا کرتی ہیں اور اُردو کا سرور بھی۔ڈاکٹر انور سعید

سفر ناموں کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اب یہ فن اُردو ادب کا ایک حصہ بن گیا ہے۔مولان نسیم اختر شاہ

دیوبند،یکم اپریل (رضوان سلمانی) ہند نرسنگ ہوم دیوبند کی جانب سے کل رات شیخ الہند ہال میں دیوبند کے ادیب و شاعر عبدالرحمن سیف عثمانی کی دو کتابوں’’ چاہتوں کا شہر‘‘اور ’’فی الحال‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔ جس میں اُردو ادب کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی، پروگرام کی صدارت رابطہ عالم اسلامی کے رکن مولانا قاری ابولحسن اعظمی نے کی اور نظامت کے فرائض سید وجاہت شاہ نے ادا کیے۔ دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر تابش مہدی نے عبدالرحمن سیف عثمانی کی کتابوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عبدالرحمن کی کتاب چاہتوں کا شہر پڑھنے کے بعد ان کے قلم کی روانی اور انداز نگارش سے دل شاداب ہو جاتا ہے اور کتاب کے نام سے انکی شخصیت اور انکے مزاج کا بھی پتہ چلتا ہے، کسی بھی کتاب کا نام بہت اہمیت رکھتا ہے، کتاب کے نام ہی سے مصنف کے افکار و خیالات کا اظہار ہوتا ہے، بلا شبہ عبدالرحمن کا یہ سفرنامہ انکے محبت بھرے دل کا مظہر ہے، اور انکی دوسری کتاب جو شعری مجموعہ ہے اس میں انکی شاعرانہ صلاحیتوں کا عکس نمایاں ہے۔

منگلور سے آئے اتراکھنڈ کے سابق پلاننگ منسٹر پروفیسرتنویر چشتی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا آج کل نوجوان طبقہ نثر کے مقابلے نظم کی طرف زیادہ مائل دکھائی دیتا ہے لیکن عبدالرحمن سیف عثمانی نظم سے زیادہ نثر میں خود کو مضبوطی کے ساتھ ثابت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، یہ نوجوان اُردو کی اِن دونوں اصناف میں اپنے فن کا جوہر دکھا رہا ہے ۔ نامور ادیب مولانا ندیم الواجدی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا عبدالرحمن سیف کا یہ دوسرا سفرنامہ ہے اس سے پہلے انکی کتاب سرحد کے پار پڑوسی ملک کے سفر کی روداد پر مشتمل تھی، یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عبدالرحمن جب کسی بھی منظر یا مقام کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کو اس خوبصورتی سے تحریر کرتے ہیں کہ پڑھنے والا خود کو اسی سفر میں اسی مقام پر محسوس کرنے لگتا ہے۔ نوائے قلم کے بانی اور دارالعلوم وقف کے استاد مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنی بات اِن الفاظ میں رکھی کہ سفر ناموں کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اب یہ فن اُردو ادب کا ایک حصہ بن گیا ہے لیکن دور حاضر میں لکھنے والے تو بہت ہیں مگر اچھا لکھنے والوں کا فقدان ہے جسے بھی پڑھِیے بس آورد ہی آورد نظر آتی ہے زبان کا حسن اور ادبی لطافت لیے ہوئے تحریریں اس زمانے میں نہ کے برابر ہیں، ایسے دور میں عبدالرحمن سیف کی تحریریں صحرا میں کسی چشمہ کی مانند نظر آتی ہیں،

جامعہ طبیہ دیوبند کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر انور سعید نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے عبدالرحمن سیف کی دونوں کتابیں دیکھیں، انکی شاعری بھی پڑہی اور سفرنامہ بھی، خوشی ہوئی اتنی کم عمر میں وہ اتنا بہترین لکھ رہے ہیں، یہ انکی پانچویں تصنیف ہے اور اس میں بھی انکا وہی رنگ وہی انداز ہے جو پڑھنے والے کو معلومات کے ساتھ ساتھ زبان کی حلاوت بھی عطا کرتا ہے اور اُردو کا سرور بھی۔ دارالعلوم اشرفیہ کے بانی و مہتمم مولانا سالم اشرف قاسمی نے کہا کہ میں نے عبدالرحمن سیف کی کتابیں پڑھیں اور پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یہ صلاحیت ان میں خاندانی ہے۔پروگرام کی صدارت کر رہے رابطہ عالم اسلامی کے رکن مولانا قاری ابولحسن اعظمی صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ عبدالرحمن جس خاندان کے فرد ہے اس میں ہمیشہ ہی سے با صلاحیت افراد پیدا ہوتے رہے ہیں اور یہی خوبی عبدالرحمن سیف میں بھی آئی ہے وہ علمی مزاج رکھتے ہیں اور اچھی تحریر لکھنے پر قادر ہیں۔

پروگرام کی نظامت کر رہے وجاہت شاہ نے کہا کہ آج کل اُردو کو چھوڑ کر نوجوان نسل اپنی تہذیب سے دور ہوتی جارہی ہے ایسے ماحول میں عبدالرحمن سیف کی کتابیں اُردو زبان کی بقا کے طور پر بھی اہمیت کی حامل ہیں اور زبان کے اثاثے کے لیے بھی ان کا وجود خوش کن ہے۔ عبدالرحمن سیف نے اپنی بات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حیدرآباد واقعی ایسا شہر ہے جسے دیکھ کر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے وہاں کے لوگ وہاں کا ماحول سبھی کچھ محبت اور چاہت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ محفل کے آخر میں پروگرام کے الداعی عبداللہ راہی نے آنے والے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اجراء کی اس محفل میں شہر کی معزز شخصیات نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر اختر سعید، قدرالزما ں کیرانوی، صدرالزماں کیرانوی، عبداللہ عثمانی، کلیم اقبال، اختر عادل، محمد رفیع صدیقی، حکیم محمد سہیل، عدیل تابش، عاصم پیر زادہ، عبدالباسط, حافظ عثمان، اسعد الواجدی، شاغل عثمانی، فرحان الحق، دانش صدیقی، ڈاکٹر معراج الدّین، زکی ماہر، سلمان دلکش، زکی انجم صدیقی، حافظ انیس الرحمن، زہیر احمد زہیر، محمد ذہیب صدیقی، جنید صدیقی وصیف صدیقی اور اطہر زہدی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button