کالم

آٹھویں امیر شریعت کا انتخاب اور مستقبل کی توقعات : اسلم رحمانی

اسلم رحمانی
مقام: مجھولیا، پارو، مظفرپور
8578980094

اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اس میں زندگی کے ہر شعبہ کے لیے پوری رہنمائی موجود ہے، سیاست وحکمرانی بھی دنیاوی زندگی کا اہم ترین باب ہے، یہ انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، اس کے بغیر نہ نظم وضبط قائم ہوسکتا ہے، نہ رشتوں اور مرتبوں کا احترام باقی رہ سکتا ہے، نہ صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہوسکتا ہے اور نہ روئے زمین جنت کا نمونہ بن سکتی ہے․․․ اسی لیے انسانی تاریخ کے ہر دور میں اس کو ایک اجتماعی ضرورت کے طور پر برتا گیا، ہر عہد کے بہترین دماغوں نے اس کے لیے اپنی صلاحیتیں صرف کیں، ہر علاقہ کی چنیدہ شخصیتوں نے اس میں حصہ لیا، اس کی تشکیل وتاسیس سے لے کر اس کی توسیع وترقی تک کے اصول وضوابط بنائے گئے، اور تاریخی ارتقا کے ساتھ اس تصور نے بھی ترقی کی، یہ فکر انسانی کی جولانگاہ رہی، یہی چیز انسانی معاشرہ کو دوسری تمام مخلوقات کے مقابلے میں قابلِ رشک عظمت عطا کرتی ہے، روئے زمین کا تمام تر حسن اسی اجتماعی نظام کی بدولت ہے اور یہی بات انسانوں کو ساری کائنات سے ممتاز کرتی ہے۔ اجتماعی نظام کے اسی تصور کا ثمرہ ہے کہ جب بیسویں صدی کے آغاز میں تحریک خلافت اور تحریک آزاد ی کی وجہ سے پورے ملک میں عام بیداری کی لہر پیداہوگئی تھی،ایسے میں کچھ عالی دماغ اور امت کے لیے دل دردمند رکھنے والی چند شخصیات نے ملت اسلامیہ ہندیہ کو صحیح اسلامی نظام کے ساتھ منظم اورمتحد کرنے کا خواب دیکھا،1919ء میں حضرت مولاناابوالمحاسن محمد سجادؒ نے کل ہند پیمانہ پر امارت شرعیہ کے قیام کی تجویز پیش کی جو بعض ناگفتہ اسباب کی وجہ سے عملی شکل اختیار نہ کرسکی،تب حضرت سجادؒ نے سرزمین بہار میں صوبائی سطح پر اس کے قیام کا منصوبہ بنایا،اس طرح آپ کی کوششوں سے 26/جون 1921ء کو عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزادؒ،قطب عالم مولا نا سید شاہ محمد علی مونگیری ؒ اور مولانا سید شاہ بدرالدین قادریؒ جیسے صاحب فکرونظر علماء کی قیادت میں امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا، محلہ پتھر کی مسجدبانکی پور،پٹنہ میں امارت شرعیہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا،جس میں اتفاق رائے حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادریؒ کو پہلے امیر کے طور پر منتخب کیاگیا،تب سے آج تک امارت شرعیہ کو ہر دور میں ایسے مخلص اور عظیم امراء شریعت کی خدمات حاصل رہی ہیں جنہوں نے امارت شرعیہ اور قوم و ملت کی فلاح وبہبود کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا۔ اسی سلسلہ کی ایک اہم شخصیت مفکر اسلام حضرت امیر شریعت سابع مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ وقدس سرہ العزیز بھی اپنے اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے ملت کے فلاح وبہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دی، آپ کی زندگی نے وفا نہ کی آپ اس دن سے رخصت ہوگئے، آپ کے انتقال کے دن سے ہی امارت شرعیہ کے نئے امیر کے انتخاب کے سلسلے میں جاری طویل رسہ کشی کے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے منتخب ہونے کے بعد ختم ہوگئی۔اب جبکہ ’’امارت شرعیہ‘‘ کے آٹھویں امیر شریعت کی حیثیت سے مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کا انتخاب ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جبکہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے، وہی ملک جسکی آزادی کیلئے ہر طرح کی قربانیاں انہوں نے دیں اور ملک کی تعمیر نو میں ان کا حصہ دوسروں سے کسی طرح کم نہیں رہا وہیں ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا ہے جو انکو ہراساں کرنے پر تلا ہوا ہے، یہ گروہ نوپید نہیں ہے اس نے آزادی سے پہلے ہی بال وپر نکالنے شروع کردیئے تھے جس نے مہاتما گاندھی تک کی جان لی، اب یہ گروہ اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ ملک کے دروبست پر اس کا قبضہ ہوتا جارہا ہے، ملک کے اقتدار اعلی کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں ہے۔یہ گروہ کبھی مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی یکساں سول کوڈ کا راگ الاپتا ہے تو کبھی ملک میں مسلمانوں کے وجود کو ہی چیلنج کرنے لگتا ہے۔
ایسے ماحول میں نئے امیر شریعت کا انتخاب بہت ساری ذمہ داریوں کو لیکر آیا ہے اور نو منتخب امیر شریعت کو اس کا پورا احساس بھی ہے چنانچہ انہوں نے خود ہی ’’امارت شرعیہ‘‘ کے قیام پر سو سال گزرنے کے ذکر کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ’’ امارت شرعیہ نے پورے ملک کی رہنمائی کی ہے‘‘ اور مزید ترقی دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
امیر شریعت ثامن حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ بانی ندوۃ العلماء ، امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ بانی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، کے حفید سعید اور امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ کے فرزند ارجمند ہیں اور انکے ہاتھوں میں وہ امانت آئی ہے جو حضرت مولانا سجاد صاحبؒ کی یادگار اور انکی بے لوث خدمات کا شاہکار ہے تو قدرتی طور پر عقیدت مندوں اور بہی خواہوں کو جستجو ہوگی کہ حضرت مونگیریؒ کی اعلیٰ روحانی نسبت، حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ اور حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ کی عزیمت وسیاسی بصیرت اور بانی امارت شرعیہ کی ایمانی غیرت وحمیت، مولانا قاضی مجاھد الاسلام صاحبؒ کی فقہی بصیرت اور امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحبؒ کا شیرازۂ ملت کو انتشار سے بچانے کا جذبہ، بزرگوں کی روایات کی پاسداری اور ذوق عمل سبھی کا جلوہ نئے امیر کی ذات میں دیکھیں، اور ہمیں اللہ کی رحمت اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی عالی دماغی سے امید یہی ہے کہ ’’امارت شرعیہ‘‘ کے کاموں میں مزید وسعت ہوگی اور اس کا پیغام پورے ملک میں عام ہوگا اور تمام ہی دینی وسیاسی مسائل میں اس کے فیصلوں سے مسلمانوں کو قوت ملے گی۔ نو منتخب امیر شریعت سے توقع ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کی اہمیت کے تئیں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی ضامن ہے۔ مسلمانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے ۔ مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دینے کہ ہر شخص اپنی وسعت کے مطابق سماج کی فلاح و بہبود کیلئے علم کی روشنی پھیلانے میں اپنا حصہ ادا کرے ۔ موجودہ تعلیمی نظام کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ضروری تدابیر پر غور و فکر کرنے ، امت مسلمہ کے ہر بچہ کو بنیادی اسلامی تعلیم سے روشناس کرانے کو ممکن بنانے ، ایک ایسے نظام تعلیم کے بارے میں غور و خوض کرنے جو موجودہ عصری نظام تعلیم کے تمام پہلوؤں کو اپناتے ہوئے ایک متوازن دینی و دنیوی تعلیم فراہم کرنے کے بہتر طریقوں پر غور و فکر کریں گے۔
سارے ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی ایک مسلمہ حقیقت ہے اور شمالی ہند کے حالات جنوب سے زیادہ خراب ہیں۔ریاست بہار ہندوستان کی ایک بڑی ریاست ہے۔ اس کا رقبہ اتنا وسیع ہے کہ ریاست کی سرحدوں پر واقع اضلاع ہر سطح پر پسماندگی کا شکار ہیں اور ان اضلاع کے مسلمانوں کی حالت ریاست کے دیگر اضلاع سے بہت زیادہ خراب ہے۔ لہذا ان اضلاع میں تعلیمی پسماندگی دور کرنے کا تہیہ کریں اور اس سلسلے میں غور و خوض اور گفت و شنید کیلئے جنگی سطح پر کوش کریں۔
ان ساری توقعات کے ساتھ ہم نئے امیر شریعت صاحب کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور انکے لئے توفیق کی دُعا کرتے ہیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close