فقہ و فتاوی

مردے کوآب زمز م سے تر کفن میں کفنانا ؟ مفتی محمد عمران قاسمی 

مردے کوآب زمز م سے تر کفن میں کفنانا ؟ مفتی محمد عمران قاسمی

سوال(٢٠٠٤) :ہمارےیہاں بعض لوگ کفن کو پہلے زمزم کےپانی میں تر کر لیتے ھیں اسکے بعد مردے کو پھناتے ہیں تو میرے کہنے کا مطلب یہ ھے کہ زمزم میں تر کۓھوۓ کفن میں مردہ کو کفنا نا شریعت میں کیسا ھے ؟
(المستفتی: ابو صادق
تملناڈو)
__________________
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللٰہ التوفیق ومنہ الصدق والصواب*:زمزم کا پانی بابرکت ہے، وہ جس کپڑے میں لگ جائے وہ بھی بابرکت ہوجائے گا، لہذا برکت کی غرض سے اس سے کفن تر کرسکتے ہیں، ممکن ھے ہے اﷲ رب العزت اس کی برکت سے عذاب دور فرمادیں۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱؍۳۶۲، کراچی، فتاویٰ محمودیہ: ۱۳؍۸۲ میرٹھ)
ولو وضع شعر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أو عصاہ أو سوطہ علی قبر عاص لنجا ذٰلک المعاصي ببرکات تلک الذخیرۃ من العذاب … ومن ہٰذا القبیل ماء زمزم والکفن المبلول بہ۔ (تفسیر روح البیان: ۳؍۴۷۹ ،تحت التوبۃ: ۸۴، دار الفکر بیروت)
فقط واﷲتعالیٰ أعلم ___________________
کتبہ :احقر
محمد عمران غفرلہ
دارالإفتاءوالإرشاد
وائٹ فیلڈ بنگلور

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close