تاریخی شہر اورنگ آباد کی گڈھے والی سڑک کو کسی مسیحا کا انتظار۔۔۔۔ذیشان الہی منیر تیمی مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا

تاریخی شہر اورنگ آباد کی گڈھے والی سڑک کو کسی مسیحا کا انتظار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذیشان الہی منیر تیمی

 اورنگ آباد شہر تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے بھارت کی ایک بہترین اور عظیم ریاست مہاراشٹر کا حصہ ہے ۔اس سرزمین کا تعلق شیوا جی مہاراج اور اورنگ زیب سے رہا ہے ۔اس خطے میں موجود بی بی کا مقبرہ، دولت آباد کا قلعہ، ایلوڑا  اور اجنتا کا گوفہ  صدیوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہوا آرہا ہے ۔یہ سب اورنگ آباد کی ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں لیکن آج اسی شہر اورنگ آباد میں روضہ باغ کی مسجد کے ٹھیک سامنے والی سڑک جو مانو کالج اورنگ آباد سے ہوتی ہوئی محمود پورہ کی مسجد رشید کو جوڑتی ہے اپنی بوشیدہ حالت اور گڈھے کی وجہ کر بڑی حادثات و خطرات کو دعوت دے رہی ہے اور یہ بتا رہی ہے کہ یہاں کے سیاسی باجیگڑو نے اس سڑک کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔اس سڑک کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سڑک اورنگ کی نہیں بلکہ کوئی بچھڑی ہوئی دیہات کی سڑک ہے ۔آئے دن اس سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو ڈھیر ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی یہاں کی حکمرانوں کے کانوں تلے جو نہیں رینگتی ۔ ایک واقعہ خود میرے اور میرے ساتھیوں کے ساتھ اس سڑک پے پیش آچکا ہے ۔ہم لوگ آج سے ایک ہفتہ پہلے جب اورنگ آباد اسٹیشن سے ایک گاڑی کے تحت اپنے دار الاقامہ کے لئے آرہے تھے ۔ہماری گاڑی آکر اسی راستے پے پھنس گئی اب کیا تھا ڈرائیور سے لیکر اس پے سوار تمام لوگ پریشان ہوگئے تمام لوگ گاڑی سے نیچے اتر کر اسے نکالنے کی کوشش کرنے لگے بلا مبالغہ لگ بھگ ایک گھنٹہ تک مسلسل دھکا دینے کے بعد کسی طرح ہم لوگوں نے گاڑی کو نکالا ۔اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ گڈھے والی سڑک کس قدر حادثات و خطرات کو دعوت دے رہی ہے ۔اس لئے اس سڑک کو سالوں سے کسی مسیحا کا انتظار ہے جو اس کی حالت کو درست کرے اس لئے یہاں کے ذمہ داران کو چاہئے کہ اس کی طرف متوجہ ہو اور اس کی حالت کو درست کرے ورنہ وہ دن دور نہیں جب اس سڑک پے کوئی بڑا حادثہ ہو گا اور یہاں کی عوام کا اعتماد یہاں کی ذمہ داران و عہدیداران سے اٹھ جائے گا ۔

ذیشان الہی منیر تیمی مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا

اپنا تبصرہ بھیجیں