ہندوستان

اسلامی قانون عدل وانصاف اور فطری تقاضوں پرمبنی،مسلم خواتین کےلئے کافی

*اسلامی قانون عدل وانصاف اور فطری تقاضوں پرمبنی،مسلم خواتین کےلئے کافی*

*اپنے عائلی مسائل کو کورٹ لے جانے کے بجائے  علماء سے حل کرانے کا مشورہ، مولانا حافظ سرفراز احمد قاسمی*

حیدرآباد(پریس ریلیز)اسلامی قانون  اورشریعت اسلامیہ کی بنیاد فطرت تقاضوں پر ہے،یعنی وہ ایک ایسا قانون ہے جو انسانی اورفطری ضروریات کامکمل خیال رکھا ہے اور معاشرے میں رہنے والے ہرطبقے کے لوگوں کے حقوق کاتحفظ کیاہے، اور سب سے اہم بات یہ کہ اسلامی قانون عدل وانصاف کا کوئی  گوشہ ناقص اور ادھورا  نہیں چھوڑا،اسلام نے جو حقوق  سماج اورمعاشرے کےافراد کو فراہم کیاہے دنیا کاکوئی دوسرا قانون یامذہب ہرگز اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا،قرآن میں ایک جگہ مسلمانوں کو حکم دیاگیا کہ”آپ یکسو ہوکراپنا رخ اس دین کی طرف  جمادیجئے، اس فطرت کی پیروی کیجئے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیداکیاہے، اللہ کی بنائی  ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی  نہیں کی جاسکتی،یہی بالکل راست اور درست دین ہے،مگر اکثرلوگ نہیں جانتے”(سورہ روم)اورلاعلمی کانتیجہ یہ ہے کہ لوگ اسلام اوراسلامی شریعت پر انگلی اٹھانا شروع کردیتے ہیں،حالانکہ  ہوناتو یہ چاہیے تھاکہ اسلامی قانون، اسلامی شریعت، قرآنی ہدایات اوراسلامی تعلیمات  کاگہرائی سے مطالعہ کیاجاتااورپھر اس پر عمل آوری کو یقینی بنایاجاتا،لیکن افسوس کہ ایسانہیں کیا جاتا بلکہ اسلام کے ماننے والوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں جاری ہیں اورایک منصوبہ بند پلان کے تحت اسلامی قانون  جو آسمانی  اورقدرتی قانون ہے اس میں مداخلت کی جارہی ہے ایوان میں شریعت  مخالف قانون بناکر لوگوں کے سرتھوپنے کی زبردستی اورناپاک کوششیں کی جارہی ہے، جسکے اثرات انتہائی  خطرناک ہونگے،اور اس طرح عذاب الہی کو دعوت دی جارہی ہے،اسلامی قانون بلاشبہ انسانیت کےلئے رحمت ہے لیکن اسکو زحمت  سمجھنے کی بھیانک غلطی کی جارہی ہے،گذشتہ دنوں جو طلاق مخالف بل ایوان میں پاس کیاگیاوہ اسی کا نتیجہ ہے، ہندوستان میں مسلمانوں نے اپنے پورے مذہبی شناخت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیاتھا،اور ملکی دستور نے بھی اسکو تسلیم کرکے دستور کاحصہ بنایا،اوریہ لکھاگیا کہ ملک میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں  کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہوگی، لیکن اسکے برخلاف موجودہ حکومت جو مسلم دشمنی کےلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے دستور کی علی الاعلان  دھجیاں اڑارہی ہے،لیکن یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حکومت ہمیشہ  کسی کے پاس نہیں رہتی، ہرعروج کو ایک نہ ایک دن زوال ضرور ہوتاہے، حکومت کو یہ یاد رکھناہوگا،ان خیالات کااظہار، شہر حیدرآباد کے ممتاز اور معروف عالم دین، مولانا حافظ سرفراز احمد قاسمی جنرل سکریٹری  کل ہند معاشرہ بچاؤ  تحریک  حیدرآباد نے یہاں اپنے ایک بیان میں کیا، انھوں نے کہاکہ اسلام نے جتنا سماج  کے مختلف  طبقے کے لوگوں کے حقوق  کاخیال رکھاہے اتنا دنیاکے کسی دوسرے مذاہب نے نہیں رکھا،نہ ہی دنیا کا کوئی  دوسرا مذہب اسلام کا مقابلہ کرسکتاہے،اسلامی قانون  کاوہ حصہ جو مسلم پرسنل لا کہلاتا ہے اورجسکا تعلق انسانوں کی انفرادی اور عائلی زندگی سے ہے، جس میں نکاح طلاق خلع، وراثت،ہبہ اوروقف وغیرہ  شامل ہے اسکی بنیاد اللہ اوراسکے رسول ﷺ کے فرمان پر ہے، یہ عائلی نظام کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت  رکھتاہے، مسلمانوں کی عائلی اورسماجی زندگیوں میں ان چیزوں کااہم کردار ہوتاہے اسلئے وقفے وقفے سے حکومتیں اس میں دخل اندازی کوشش کرتی رہی ہیں،اورطلاق مخالف  بل لاکر حکومت نے یہی سازش رچی ہے،ہمیں ان سازشوں  سے ہوشیار رہنا ہوگا، اگرہم شریعت پر کماحقہ عمل کرنے لگیں اوراپنے مسائل ومعاملات کوکورٹ میں حل کرنے کےبجائے علماء  اور دینی اداروں سے حل کراتے رہے توانکی سازشیں خودبخود ناکام ہوجائیں گی،جب تک مسلمان اپنی شریعت کو جان سے زیادہ عزیز سمجھتارہے گا اورہر معاملے میں اس پر عمل کرتارہے گا تب تک اسلامی قانون کو کوئی نہیں مٹاسکتا،اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ شریعت پرعمل آوری سے ہی ہمارے ساتھ  غیبی اورخدائ مدد شامل حال ہوگی، قرآن میں کئی جگہ یہ مسلمانوں سے وعدہ کیاگیا ہے کہ جب تک تم اللہ اوراسکے دین کی مدد کرتے رہوگے تب  تک تمہارے ساتھ اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہے گی، علماء نے لکھاہے کہ اللہ کی مدد کرنے کامطلب یہ ہے کہ ہرآدمی اپنی استطاعت اور وسعت کے مطابق خدائی اور قدرتی قانون کی حفاظت کرے تواللہ کی مدد ضرور آئے گی،مولاناقاسمی نے کہاکہ ہندوستان کے مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن شریعت میں کسی قسم کی تبدیل اورترممیم ہرگز گوارہ نہیں کرسکتے،خدائی اورقدرتی قانون کے مقابلے کوئی مصنوعی قانون کیوں کر انسانیت کےلئے زیادہ بخش ثابت ہوسکتاہے؟اسلام نے مسلم خواتین  کو مکمل حقوق عطاکیا اوراسکے حقوق کاتحفظ بھی کیایہ بالکل کھلافریب ہے کہ اسلام نے خواتین کے ساتھ ناانصافی کی اوراسکو اسکے بنیادی حقوق سے محروم رکھااس میں ذرہ برابر سچائی نہیں،طلاق بل دراصل مسلم خاندان کو تباہ وبرباد کرنے سازش ہے جس میں مسلمانوں کانقصان ہی نقصان ہے،اسلام بیک وقت تین طلاق کو ناپسند ضرور کرتاہے،اسلئے مسلم نوجوانوں  کوان سے بچنے کی ضرورت ہے،مسلم معاشرے میں طلاق یاعلیحدگی کوئ بخوشی اختیار کیاجانے والاعمل ہرگز نہیں،بلکہ غصہ، برہمی اورمجبوری کی حالت میں طلاق کاآپشن رکھاہے جوشوہر وبیوی دونوں کےلئے ایک نعمت ہے،حکومت نے جوقانون طلاق کے خلاف بنایا ہے اس میں یہ وضاحت کی گئی ہےکہ شوہراگر اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتاہے اوربیوی پولس سے رجوع کرلے تو شوہرکے خلاف  ناقابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیاجائے گا،اورشوہر کو تین سال کی سزاہوگی،اب سوال یہ ہے کہ جس بیوی کی وجہ سے شوہر جیل گیاکیاوہ دوبارہ اپنی بیوی کو نکاح میں رکھنےکےلئے راضی ہوگا؟شوہر کے گھر والے بیوی کو گھرمیں رہنے دیں گے؟کیاپھر ان دونوں کے درمیان صلح کی گنجائش باقی رہے گی؟مرد کے جیل جانے کےبعد بیوی بچوں کاخرچ آخر کون اٹھائے گا؟اورشوہر جب جیل چلاجائے گاتو مقدہ فائنل ہونے اتنالمباوقت لگتاہے کہ اسکے مقدہ کاخرچ اسکی جائیداد فروخت کرکے پوراکرلیاجائے گا، پھراسکے پاس کیابچے گابیوی اوربچوں کےلیے؟ خلاصہ یہ ہے کہ اس بل میں مسلمانوں کانقصان ہی نقصان ہے،ایک روپے کابھی فائدہ نہیں، اورمسلمانوں کوبردباد کی ایک ناپاک کوشش ہے،اس بل کے ذریعے شوہر وبیوی کےدرمیان نفاق پیدا کرکے کنگال بنانے کی کوشش بھی ہے،اسلئے یہ بل کسی صورت قابل قبول نہیں،مسلمانوں کوجم کر اس بل کی مخالفت کرنی چاہیے اورعلماء سے اپنے مسائل کےلیے رجوع کرناچاہئے اس میں انشاءاللہ خیرپیداہوگا، اللہ تعالی ہم سبکی شر سے حفاظت فرمائے۔۔۔۔۔۔۔

برائے رابطہ8801929100ای میل sarfarazahmedqasmi@gmail.com

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close