ہندوستان

سی اے اے: کیرل حکومت کے سپریم کورٹ جانے پر گورنر عارف محمد خان برہم ! کہا میں ربر اسٹمپ گورنر نہیں ہوں

ترونت پورم۔۱۶؍جنوری: کیرل حکومت کے شہریت ترمیم قانون کو لے کر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان ناراض ہو گئے ہیں۔گورنر عارف محمد خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ مجھے ان کے (کیرالہ حکومت کے) سپریم کورٹ میں جانے سے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن انہیں سب سے پہلے مجھے مطلع کرنا چاہئے تھا،میں ریاست کا آئینی سربراہ ہوں اور مجھے اخبارات سے اس (سپریم کورٹ جانے کے) بارے میں معلومات مل رہی ہے۔واضح طور پر میں صرف ربڑ اسٹمپ نہیں ہوں۔عارف محمد خان نے کہا کہ یہ پروٹوکول اور آداب کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں اس بات کو دیکھوں گا کہ کیا ریاستی حکومت بغیر گورنر کی اجازت کے سپریم کورٹ جا سکتی ہے یا نہیں؟ اگر اجازت نہیں لے رہے تھے تو وہ کم از کم مطلع کر سکتے تھے۔بتا دیں کہ متنازعہ نظر ثانی شہریت قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کے بعد کیرالہ حکومت نے منگل کو کہا کہ وہ اس قانون کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی کیونکہ یہ ملک کی سیکولر ازم اور جمہوریت کو تباہ کرتا ہے۔سی پی ایم کی قیادت والی حکومت نے سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاکر یہ اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ نظر ثانی شہریت قانون آئین کے مطابق نہیںہے۔کیرالہ کے وزیر صنعت ای پی جیراجن نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے اور اس قانون سے لڑنے کے لئے تمام اختیارات پر غور کریں گے۔جیراجن نے کہاکہ ریاستی حکومت کسی بھی حد تک جائے گی اور سی اے اے کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی،یہ قانون ملک میں جمہوریت کو تباہ کرے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ صرف آر ایس ایس کے ایجنڈے کو لاگو کرنے، ملک کو فاشسٹ حکومت چلانے اور ملک کی سیکولر ازم اور جمہوریت کو تباہ کرنے میں مدد کرے گا۔ جیراجن نے کہاکہ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار بلند بازو کے استعمال سے اس قانون کو نافذ نہیں کرا سکتا۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ کیرل حکومت نے غیر آئینی سی اے اے کے خلاف پٹیشن دائر کی ہے۔سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ جانے والی کیرل ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔کیرل نے راہ دکھائی ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close