جمہوری ملک میں حقوق کی حفاظت! از : مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی قدس اللہ سرہ

جمہوری ملک میں حقوق کی حفاظت
از : مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی قدس اللہ سرہ 

“ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ایسے ملک میں ہیں جس میں اکثریت غیرمسلموں کی ہے، وہ جمہوری ملک ہے، اور وہاں قانون ساز مجلسیں قانون بناتی ہیں، جب یہ ملک جمہوری ہے تو پارلیمنٹ ہی قانون بنائے گی، اور جمہوریت کا یہ قاعدہ ہے کہ اکثریت کی رائے اور تائید سے قانون بنتا ہے، اس لیے ہر وقت اس کا خطرہ ہے کہ ایسے قوانین بنیں جو ہمارے بنیادی عقائد، مسلمات، ہمارے جذبات اور ہماری ضرورتوں کے خلاف ہوں.اب ہمارا کام یہ ہے کہ ایسے سیکولر اور جمہوری ملک میں اپنے ملی تشخص کی حفاظت آئینی طریقہ پر کریں، ہم ہندوستان کے وفادار، مفید، کارآمد اور اس کے ضروری جزء ہونے کی حیثیت سے اپنی افادیت واہمیت ثابت کریں اور مطالبہ کریں کہ کوئی قانون ہماری شریعت، آسمانی کتاب اور ہمارے عقائد کے خلاف نہیں بننا چاہیے.اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت کریں کہ خلاف شریعت قانون بننے سے ہم کو اس سے زیادہ اذیت ہوتی ہے، جتنا کھانا روکنے سے. ہم ثابت کردیں کہ اس نئے قانون سے ہم کو ایسی گھٹن ہو رہی ہے جیسے مچھلی کو پانی سے نکال کر باہر رکھنے سے ہوتی ہے، ہمارے چہروں کے اتار چڑھاؤ، حرکات و سکنات سے معلوم ہوجائے کہ ہماری صحت اور توانائی اور کارکردگی پر اثر پڑ رہا ہے، اور یہ محسوس کرلیا جائے کہ یہ ایک مغموم قوم کے افراد ہیں، اس نئے قانون سے ان کا دم گھٹ رہا ہے.”(کاروان زندگی: ٣/ ١٥٥-١٥٦)

اپنا تبصرہ بھیجیں