ہندوستان

رامپور رضا لائبریری میں ہند و ایران قلمکار رابطے کا انعقاد

مہمانان خصوصی ڈائریکٹر ایران کلچر ہاؤس ڈاکٹر علی رضا قزوہ اور ڈائریکٹر مرکز تحقیقات فارسی ڈاکٹر احسان اللہ شکر اللٰہی نے پروفیسر سید حسن عباس کی فارسی خدمات کی ستائش کی
رامپور : (پریس ریلیز) رامپور رضا لائبریری کے خیابان رضا میں واقع کانفرنس ہال میں ہندو ایرانی قلمکار رابطہ و تہنیتی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت پاک سے ہوا ۔ اس موقع پر مہمانان کرام کے ہاتھوں رامپور رضالائبریری جرنل کا ۳۲واں شمارہ، سید نقی عباس کیفی کے شعری مجموعہ نگار خانہ ای گنگا، بلرام شکلا کے فارسی شعری مجموعہ زعفران و صندل اور رضا لائبریری کے کیلنڈر 2020 کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ تقریب کی نظامت کرتے ہوئے لائبریرین اور انفارمیشن آفیسر ڈاکٹر ابو سعد اصلاحی نے مہمانان کرام کا استقبال کرتے ہوئے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کلیات آزادبلگرامی کی تدوین و تصحیح پر حکومت ایران کی طرف سے ہماری لائبریری کے ڈائریکٹر سید حسن عباس کو اعزاز دیا جانا ہمارے لئے باعث مسرت ہے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈائریکٹر ایران کلچر ہاؤس ڈاکٹر قزوہ نے کہا کہ ہندوستان ماضی بعید سے اب تک دنیا کے اندر علوم و فنون کامرکز و مسکن رہاہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانیوں کی فطرت میں دوسری تہذیب و ثقافت کے لیے بے پناہ جگہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ رامپور رضا لائبریری اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہاںدیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کابے حد قیمتی سرمایہ موجود ہے۔ انھوںنے پروفیسر سید حسن عباس کو ایرانی حکومت کی طرف اعزاز دیئے جانے پر کہایہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ ایک ایسے شخص کو اعزاز دیا گیاہے جو گذشتہ کئی برسوں سے فارسی زبان و ادب کے فروغ اور تحقیقی میدان میں خوش اسلوبی مگر خاموشی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈائریکٹر مرکز تحقیقات ڈاکٹر شکر اللٰہی نے کہا کہ پروفیسر سید حسن عباس کی شخصیت اس تناور درخت کی مانندہے جس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوں اور اس کی جڑیں مضبوط اور گہرائی میں پیوست ہوں۔انھوں نے کہا کہ پروفیسر حسن عباس کی شخصیت نے ہندوستان کے قدیم فارسی شعرا کے کلام کو فارسی دانوں میں روشناس کرایاہے اور آئندہ بھی ہم آپ سے یہی توقع کرتے ہیں کہ مستقبل میں آپ فارسی زبان و ادب کے تعلق سے غیر معمولی خدمات انجام دیں گے۔ پروفیسر سید حسن عباس نے مہمانون کا رضا لائبریری میں استقبال کرتے ہوئے نیک خواہشات پر مشتمل بیانات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انسان کی اصلی پہچان اس کا کام ہوا کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر آپ کوئی بھی کام محنت، لگن،ایمانداری اورخوش اسلوبی کے ساتھ کرتے ہیں تو اللہ پاک آپ کو اس کا اجر ضرور دیتا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کام کرنے کے بعد کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہے۔اچھے کام کی قدر ہمیشہ ہوتی ہے اگر چہ اس میں دیر ہو ۔پروفیسر سید حسن عباس نے اس موقع پر ایران کلچر ہاؤس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایران کلچرہاؤس کے تمام ارباب حل و عقد اور جیوری کے افراد کا مشکور ہوں کہ انھوں نے کلیات آزاد بلگرامی کو شریک بزم کرنے اور اسے اعزاز سے نواز کر میری حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر ڈاکٹر بلرام شکلا نے کہا کہ ڈاکٹر عباس نے کلیات آزاد بلگرامی کو مرتب کرکے فارسی دنیا کو ہندوستان کے بڑے فارسی گوشاعر اور مصنف سے روشناس کراکر ہندوستان کا سر فخر سے اونچا کردیا ہے۔آخر میں ڈاکٹر ابو سعد اصلاحی نے ڈاکٹر سید حسن عباس کے متعلق کہا کہ ڈاکٹر صاحب جب سے ڈائریکٹر کی حیثیت سے رضا لائبریری میں آئے ہیں نت نئے موضوعات پر کافی کام ہوئے ہیں اور وہ دبستان رامپور کی اوجھل کڑیوں کو جوڑنے اور منظر عام پر لانے کی مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔ ڈاکٹر شعائر اللہ خاں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر سید حسن عباس کی علمی زندگی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ علمی دنیا کو ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ڈاکٹر تبسم، ڈاکٹر ارشاد ندوی، نوید قیصر ،سید طارق اظہر،ساجدہ شیروانی نے بھی اپنے تاثرات میں پروفیسر سید حسن عباس کی علمی و ادبی خدمات کو سراہا۔ پروگرام کے دوران ڈاکٹر قزوہ، ڈاکٹر شکر اللٰہی ، ڈاکٹر سید نقی عباس کیفی، ڈاکٹر بلرام شکلا اور زرین زہرہ نے فارسی کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ پروگرام میں لائبریری کے جملہ اسٹاف و دیگر معززین موجود رہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close