ہندوستان

احتجاجات کو پس پشت ڈالتے ہوئے سی اے اے کے نفاذ کا اعلان!زین العابدین ندوی،دارالعلوم امام ربانی،نیرل مہاراشٹر

مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلی ٰ نے سی اے اے اور این آر سی کی کھلم کھلا مخالفت کرتےہوئےاس کو غیر قانونی قرار دیا ،اور ریاست کےلوگوں کو یہ اطمینان دلایا کہ ہم یہاں این آر سی اور سی اے اے نافذ نہیں ہونے دیں گے ، جس میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے جی ، مدھیہ پردیش کے کمل ناتھ جی ، بنگال سے ممتا بنرجی دہلی سے اروند کیجروال جی اور جھارکھنڈ سے ہمینت سورین پیش پیش ہیں اورتحفظ آئین کی اس لڑائی میں جمے ہوئے ہیں ، ایسے موقع پر سوال یہ ہے کہ وزرائے اعلی ٰ کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی اس کالے قانون کے نفاذ کانوٹیفکیشن جاری کر ناکس حد تک مناسب ہے ؟ اور اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے ؟ جب کہ عوام میں مزید غم وغصہ کی لہر بڑھتی ہی جا رہی ہے ،ظاہر ہے ایسی صورتحال میں تمام صداوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کرنا حکومت کے ارادں اور ان کے ناپاک عزائم سے پردہ اٹھاتا ہے ، اس سلسلہ میں مزید اب کچھ بھی کہنے اور سننے کی ضرورت باقی نہیں رہی اس کا ایک ہی حل رہ گیا ہے ، کہ ہم اسی طرح بائیکاٹ کاسلسلہ جاری رکھیں اور اعلانیہ طور پر اس نوٹیفکیشن کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے اسے قانون بالکل بھی تسلیم نہ کریں ، اور یہ اعلان کریں کہ آئین ہند کے خلاف ہم کسی بھی قانون کو ماننے کے پابند نہیں ، اس کے خلاف مرتب کئے جانے والے قوانین خواہ وہ کسی کی بھی جانب سے ہوں ہم اس کا ہر حال میں بائیکاٹ کرتے ہیں ، اور اس طرح کے اقدامات کو ظلم وزیادتی گردانتے ہوئے ایسا کرنے والوں کو دیش کا دشمن سمجھتے ہیں ۔
ایسے موقع پر جب کہ ملک آزادی کے نعروں سے گونج رہا ہے ، اور ملک کا دانشور امن پسند طبقہ ملک میں بڑھتی کشیدگی کو لے کر فکرمند ہے ، اور سبھی مل کر اس آئین مخالف قانون کی مخالفت کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، یکا یک سی اے اے کے نفاذ کا اعلان کر دینا سلسلہ ظلم کو آگے بڑھانا ہے ، اس لئے پہلے تو حکومت سے میری یہ اپیل ہے اور شاید یہ ہر ہندوستانی کی آواز ہو کہ حکومت کو اپنی طاقت کے نشہ سے باہر آجانا چاہئے اور چند روزہ حکومت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا سلسلہ بند کردینا چاہئے اور اپنی حیثیت اور قد پر نظر رکھتے ہوئے اس طرح کے آئین مخالف قوانین کو واپس لے لینا چاہئے اور ساتھ میں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جن بھارتیہ عوام کے ووٹ میں چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ای وی ایم کی مدد سے تم نے ملک پر قبضہ کیا ہے وہی عوام تمہیں کرسی سے اٹھا کر جہنم میں بھی پھینکنا جانتی ہے ، ہندوستانیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر کوئی بھی حکومت نہیں چل سکتی ہے ، اگر ایسا نہیں ہوا تو یاد رکھنا ملک جہنم کدہ میں تبدیل ہو کر رہے گا ، اور یہاں جنگ کے وہ لاوے ابلیں گے کہ حکومت کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔اور دوسرے نمبر پر بھارتیہ عوام سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کے واسطہ اگر تم ملک سے محبت کرتے ہو اور ملک کا بھلا چاہتے ہو تو تمہیں اپنے اسی مخالفت کے موقف پر جمے رہنا ہوگا ، اور حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسی جرأت وہمت اور ثبات واستقلال کے ساتھ ان کے ظلم کا مقابلہ کرتے رہنا ہوگا ، چوک چوراہوں کو گلی گلیاروں کو آباد رکھنا ہو گا ، اور چوروں سے اس ملک کی حفاظت میں لگے رہنا ہوگا ، اس لئے کہ چور آچکا ہے اس نے سیندھ بھی لگا دی ہے ،اور ملک کو لوٹ کر بھاگنا چاہتا ہے اس لئے ہم اس چور کو اور ان کے ہمنواوں کو جانے نہیں دینا ہے ، یاد رکھو اگر ہماری آوازیں سرد پڑ گئیں ہمارے جذبات ٹھنڈے ہو گئے ، اور یوں ہی جنگل راج چلتا رہا تو یقین جانو ہمیں غلام بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ، اس لئے کسی قانون سے گھبرائے بغیر ہمیں آہنی دیوار بننا ہو گا ، اور یہی واحد حل اور مناسب تدبیر ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
Close