ہندوستان

جو والدین اپنی اولاد کی شادیوں پر ان کی تعلیم سے زیادہ خرچ کرتے ہیں وہ قابلِ مذمت ہیں

جو والدین اپنی اولاد کی شادیوں پر ان کی تعلیم سے زیادہ خرچ کرتے ہیں وہ قابلِ مذمت ہیں
بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس بیدر کے اختتامی اجلاس سے ڈاکٹر عبدالقدیر کا خطاب
بیدر ۔ 02؍دسمبر 2019 (ذرائع)
ہندوستان ایک وسیع ملک ہے ‘اور اس کو طاقتور بنانا ہمارے ہاتھوں میںہے اور یہ کام تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اساتذہ اورتعلیمی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سمت میں کوشش کریں۔والدین پربھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل بنائیں ‘اور انھیں بہتر سے بہتر تعلیم فراہم کریں ۔ان خیالات کا اِظہار شاہین ادارہ جات کے چیرمن ڈاکٹر عبدالقدیر نے دو روزہ بین الاقوامی ایجوکیشن سمیٹ کے آخری سیشن سے کیا۔انھوں نے کہا کہ جو والدین اپنی اولاد کی شادیوں پر ان کی تعلیم سے زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں وہ قابلِ مذمت ہیں‘اولاد کی تعلیم سے بڑھ کر والدین کوئی اور تحفہ انھیں نہیں دے سکتے۔شرکاء سے ڈاکٹر عبدالقدیر نے گذارش کی کہ اس دوروزہ کانفرنس سے جو کچھ معلومات انھیں حاصل ہوئی ہیں ان کو اپنے اپنے اداروں میںروبہ عمل لائیں ‘ تاکہ ہمارے بچے انسانوں کی خدمت کرنے والے بن جائیں اور اس ملک کو پھر سے سونے کی چڑیا بنادیں۔ڈاکٹر قدیرنے والدین سے گذارش کی کہ وہ اپنے بچوں کوٹیوشن نہ بھیجیں ‘ایک تو اس سے خرچ بڑھے گا اور دوسرا جو ان بچوں کو تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں ان اساتذہ کی توہین ہوگی۔بیدر ضلع سے ٹیوشن کی وباء اب ختم ہوچکی ہے ۔ اور ہر شہر میںاس ٹیوشن کلچر کوختم کرنا ہے اس لئے کہ یہ ایک بیماری ہے اور غیر فطری عمل ہے۔ بچوں کو تعلیم دینا تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے ۔ڈاکٹرقدیر نے کانفرنس میں شریک تمام ماہرینِ تعلیم کا حاضرین کا شکریہ ادا کیا علاوہ ازیں پروگرام کے انچارج محمد توفیق میڈیکری اور ان کے رفقاء کا ‘شاہین ادارہ جات کے تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف اورطلباء کا ان کی دور زہ محنتوں ‘ مشقتوں کیلئے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور نامہ نگاروں سے بھی اِظہار تشکر کیا جو مُختلف اخبارات ‘ ٹی وی چینلوں اور سو شیل میڈیا سے منسلک ہیں شریک ِکانفرنس رہے ۔ پہلے دن کے دوسرے سیشن میں ڈاکٹرجزیل‘جے حق‘ڈاکٹر ساجد جمال علی گڑھ ‘ایم بیگم علی گڑھ‘راج گور دہلی‘ نغمہ شاہدہ علی گڑھ ‘کنچن بسواس دہلی‘ڈاکٹر مجیب الحسن علی گڑھ ‘موہنا دہلی‘ کنچن سری لنکا‘ڈاکٹر حنا حسن مانو بیدر‘توحید الاسلام ‘سیدہ افشاں آفریں ‘ اورویراج شیٹی میلورکر نے تعلیم سے متعلق مُختلف عنوانات پر اپنے خیالات اِظہار کیا۔ کانفرنس کے آج دوسرے دن کے پہلے سیشن میں مُختلف عنوانات پر ماہرینِ تعلیم نے روشنی ڈالی۔ تھامس ڈیالینے (گلوبل ڈریم ۔آسٹریلیا اینڈ انڈیا) نے بڑے ہی بہترین انداز میں پراکٹیکل طورپر یہ بتایا کہ جو لوگ پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں کتنی آسانی سے کوئی زبان سکھ سکتے ہیں ۔تھامس کے والدین کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور وہ برسوں سے ہندوستان میں مقیم ہیں ۔تھامس اپنے طورپربہت سارے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں ‘ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ کھیلوں کے ذریعہ تعلیم دیتے ہیں۔ تھامس کے بعد مجاہد الاسلام عظیم پریم جی یونیورسٹی نے تعلیم میں ٹکنا لوجی کے استعمال پر مؤثر طریقے سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ اساتذہ زیادہ تر تمام بچوں کو ایک ہی طریقہ سے پڑھاتے ہیں ۔بچوں کو ذہن میں رکھ کر الگ الگ طریقوں سے پڑھانا ہوگا۔بچوں کو گیمز بہت پسند ہیں اس لئے ٹیچرکو چاہئے کہ وہ کھیلوں کے ذریعہ سبق سکھائیں ۔انھوں نے مُختلف کتابوں کے نام بتائے جواساتذہ کے کام آسکتی ہیں۔پروفیسر ریتا سوناوت وومنس یونیورسٹی ممبئی نے تعلیم کے میدان میں ملٹی پل انٹی لیجنس کے بارے میں تفصیلات پیش کیں‘ بتایا کہ چند بچے سن کر سیکھتے ہیں ‘چند بچے موسیقی کی مدد سے سیکھتے ہیں ۔چند اشاروں سے چند چلتے پھرتے سیکھتے ہیں ۔اس لئے کہ ذہانت ایک طرز کی نہیں ہوتی۔ ان کے بعد عبداللہ اعظم ریسرچر (محقق) آکسفورڈ یونیورسٹی نے اقلیتی تعلیمی مسائل اور چیلنجس پر مُختلف نکات پیش کئے اور بتایا کہ آج تک جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کو اقلیتی درجہ نہیں ملا۔ معاملہ ابھی عدالتوں میں ہے۔اس سلسلہ میں ہم تمام کو کوشش کرنی چاہئے ۔علاوہ ازیں اقلیتوں کے مُختلف مسائل پر بھی انھوں نے جامع انداز میں روشنی ڈالی۔جناب دائود ایم (کیرلا) اور نجمہ سلطانہ محقق (ریسرچر)مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی حیدرآباد نے مدرسہ ایجوکیشن میں اصلاحات پر اپنے خیالات کا اِظہار کیا۔آج کے دوسرے سیشن میں ڈاکٹر محمدسعید نے نئی تعلیمی پالیسی پر اپنے خیالات کا اِظہار کیا اور کہا کہ ہمیں کس حد تک چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹرمونیکا سیتیا ۔ریجنل آفیسر یو ایس کنسلیٹ جنرل نے امریکہ میں تعلیمی تبادلہ کے جومواقع ہیں ان پر مکمل روشنی ڈالی کہ کس طرح ہندوستانی طلباء امریکہ میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔سید تنویر احمدڈائریکٹر شاہین کڈس نے تعلیم میں نئے رحجانات پر اِظہار ِ خیال کیا اور کہا کہ ہر پندرہ مہینوں میں نالج بدل رہی ہے۔ایک اشارہ انھوں نے دیا کہ چندبرسوں میںنرسری اسکولوں میں بچوں کی تعداد بڑھتی جائے گی ا س کیلئے اسکول انتظامیہ ابھی سے تیاری کرلے۔پروفیسر جلاالدین (سری لنکا) نے سری لنکا کے مسلمانوں کی تعلیم کے متعلق کہا کہ وہ اس میدان میں مُختلف وجوہات کی بنا پر بہت پیچھے رہ گئے ہیں اب گذشتہ چند برسوں سے اس طرف توجہ دی جارہی ہے اور مسلمان طلباء کی تعداد بڑھ رہی ہے۔اس موقع پرڈاکٹر قمرسلطانہ ‘مہرسلطانہ ‘ایم محبوب نے انٹی گریٹیڈ لرننگ یعنی روزانہ کی نصابی تعلیم کو اسلام سے جوڑنے سے متعلق بہت ساری باتیں بتائیں اور کہا کہ ہر موضوع کے ساتھ مذہب کو جوڑا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close