ہندوستان

بیک ٹو ولیج پروگرام مرحلہ دوم کے تحت بلاک لسانہ کی پنچایت لوہر لسانہ میں دو روزہ پروگرام منعقد ہوا

سرنکوٹ ( طارق خان ہندوستان اردو ٹائمز ) بیک ٹو ولیج پروگرام مرحلہ دوم کے تحت بلاک لسانہ کی پنچایت لوہر لسانہ میں دو روزہ پروگرام منعقد ہوا۔اس دوران افسر مجاز سنیئرلیکچرر زمورد خان نے مذکورہ پنچایت میںجاری متعدد ترقیاتی کاموں، بیک ٹو ولیج پروگرام مرحلہ اول کے تحت جن مسائل ومطالبات کو عوام نے نوٹس میں لایاتھا، اُن پر ہوئی عملی پیش رفت کاجائزہ لیا۔ اس دوران پنچایتی ممبران نے مختلف محکمہ جات کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔ سرپنچ عبدالمجید، سابقہ عدالتی چیئرمین فاروق خان، متعدد وارڈوں کے پنچ، جی آر ایس ارشاد بھٹ وغیرہ بھی اُن کے ہمراہ رہے۔پنچایتی ممبران نے یک زبان لسانہ میں سڑک کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر کرنے، سبھی مستحق لوگوں کو آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت لانے کے لئے ’گولڈن کارڈز‘بنانے، میریج اسسٹنٹ اسکیم کے تحت سبھی مستفیدین کو فہرست میں شامل کرنے،عمر رسیدہ اور معذوروں کی پنشن کی التوا میں پڑی سبھی فائلیں منظور کرنے،دو پرائمری اسکولوں کا درجہ بڑھانے، متعدد وارڈوں میں پانی کے ٹینک تعمیر کرنے، سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی خالی پڑی آسامیوں کر پُرکرنے، بیک ٹو ولیج پروگرام فسٹ کے تحت جومسائل انتظامیہ کی نوٹس میں لائے گئے تھے، اُن پر عمل کرنے کے مطالبات کئے۔پنچایتی ممبران نے لفٹ واٹر سپلائی اسکیم جس پر کم وبیش 3کروڑ روپے خرچ کئے گئے، سے پنچایت لوہر لسانہ کے لوگوں کو فراہم پانی کنکشن ، اُس پر لگائی گئی پانی کی پائپوںوغیرہ کی تفصیل مانگی گئی۔ پنچایتی ممبران نے سوبھاگیہ اسکیم کے تحت دو ٹرانسفارمر منظور کئے گئے تھے، لیکن زمینی سطح پر انہیں آج تک نہ لگایاگیا، بجلی کھمبے جو کاغذوں میں دکھائے گئے ہیں، زمین پر کہیں دکھائی نہیں دے رہے، متعلقہ محکمہ سے اِس کا حساب طلب کیاگیا۔ پنچایتی ممبران نے یہ معاملہ بھی اُٹھایا کہ آنگن واڑی سینٹرزغیر فعال ہیں، وہی بچے جوکہ پرائمری اسکولوں اور پرائیویٹ اسکولوں میں اندراج شدہ ہیں، انہیں کو آنگن واڑی سینٹرز میں بھی ظاہر کیاگیاہے۔ انہوں نے آنگن واڑی مراکز اور پرائمری اسکولوں سے0سے لیکر 14سال تک کے تمام اندراج شدہ بچوںکی تفصیلات معہ ولدیت وپتہ طلب کیں۔پنچایت لوہر لسانہ میں سینکڑوں لوگ خط افلاس سے نیچے گذر بسر کرتے ہیں لیکن آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت صرف 24افراد کے ہی گولڈن کارڈ بنے، میریج اسسٹنٹ اسکیم جس کے تحت غریب بچیوں کو شادی پر حکومت کی طرف سے مالی معاونت ملتی ہے، کے لئے محکمہ سوشل ویلفیئر نے جوسروے کیا ، اُس میں60فیصد مستحق بچیوں کو فہرست میں ہی شامل نہ کیاگیا۔ ممبران نے سرنوسروے کرانے اور گولڈن کارڈ بنانے کے لئے خصوصی کیمپ منعقد کرنے پرزور دیا۔ محکمہ زراعت، انیمل ہسبنڈری، بھیڑ پالن سے بھی گاؤں ہذا میں خرچ کی گئی رقومات وغیرہ بارے تفصیلات طلب کی گئیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close