ہندوستان

کشمیر میں اردو زبان روبہ زوال ، سرکار اور عوام کی عدم توجہی کا شاخسانہ !

تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ وادی کشمیر میں اردو اخبارات کی مانگ اور سرکیولیشن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور اوسطاً 70 فیصد سے بھی زیادہ لوگ اردو اخبارات ہی پڑھتے ہیں۔
سری نگر ۔ 29 نومبر 2019 (ذرائع) رواں سال کے 31 اکتوبر کو ‘جموں وکشمیر تنظیم نو قانون 2019’ کے نفاذ کے ساتھ ہی جموں وکشمیر کی سرکاری زبان ہونے کا اعزاز کھو دینے والی ‘اردو’ جہاں سرکاری سطح پر مسلسل عدم توجہی اور غیر ذمہ دارانہ سلوک کی شکار ہے وہیں عوامی سطح پر بھی اس کے ساتھ روا رکھا جا رہا برتاؤ بھی حوصلہ شکن ہی ہے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ وادی کشمیر میں اردو اخبارات کی مانگ اور سرکیولیشن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور اوسطاً 70 فیصد سے بھی زیادہ لوگ اردو اخبارات ہی پڑھتے ہیں۔

واضح رہے کہ زائد از ایک صدی تک جموں وکشمیر کی سرکاری زبان رہنے والی ‘اردو’ 31 اکتوبر 2019 کو ریاست کے یونین ٹریٹری میں تبدیل ہونے سے جہاں سرکاری زبان ہونے کے اعزاز سے محروم ہوگئی وہیں اس کے مستقبل پر خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ البتہ جموں کشمیر تنظیم نو قانون کے مطابق جموں کشمیر میں اسمبلی معرض وجود میں آنے کے بعد سرکاری زبان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔

ارود کے محبوں اور شیدائیوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اردو کے فروغ کے لئے سرکاری سطح پر کسی منظم ادارے بالخصوص اردو اکیڈمی کا ناپید ہونا اردو زبان کے تنزل کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ منیر احمد نامی ایک محب اردو نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں اردو اخبارات کی سرکیولیشن زیادہ ہونے کے باوجود بھی اردو کا مستقبل غیر محفوظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘وادی میں دور حاضر میں بھی اردو اخبارات کی ہی سرکیولیشن زیادہ ہے لیکن اس کے باوصف بھی اردو زبان کا مستقبل غیر محفوظ ہے، اردو کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ زمینی سطح پر ایک ہمہ گیر مہم شروع کی جائے اور اس سلسلے میں کم سے کم دکانداروں کو اردو زبان میں بورڈ و دیگر مواد شائع کرانے پر رضامند کیا جائے’۔ وادی کشمیر میں جہاں ایک طرف سرکاری محکموں میں انگریزی زبان کو اردو پر ترجیح دی جارہی ہے اور لگ بھگ تمام سرکاری دفاتر کے بورڑ انگریزی زبان میں تحریر ہیں وہیں وادی کی بیشتر دکانوں کے بورڈ بھی انگریزی زبان میں ہی لکھے گئے ہیں۔ سری نگر کے مضافاتی علاقہ پیرباغ میں جموں کشمیر پولس ہیڈ کوارٹر کے متصل واقع اینٹی کرپشن بیورو کا بورڈ بھی انگریزی زبان میں ہی تحریر ہے تاہم ٹریفک کو منظم کرنے کے لئے محکمہ پولس کے ‘بیریکیڈس’ ارود زبان میں ہی تحریر ہیں۔

محبان اردو کا کہنا ہے کہ ریاست کا یونین ٹریٹری میں تبدیل ہونے کے بعد سرکاری محکموں پر لگائے جانے والے نئے بورڈ انگریزی زبان میں ہی ہوتے ہیں بلکہ پرائیویٹ ادارے بھی انگریزی زبان میں تحریر بورڈ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ کوچنگ سینٹروں کے شہر ودیہات میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں نصب بورڈ انگریزی زبان میں ہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کے دور میں سال 2018 میں اردو زبان کے فروغ کے لئے ‘اردو کونسل’ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن اس کونسل کی سرگرمیاں محض چند میٹنگوں تک ہی محدود رہی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض سرکاری افسران کونسل کے رکن تھے جن کا اردو کے ساتھ کوئی سروکار تھا نہ اردو کے ساتھ کوئی ہمدردی تھی۔

اردو زبان ادب کے اساتذہ کے گروپ نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اردو کونسل کسی بھی صورت میں اردو اکیڈمی کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہاں اردو کے فروغ کے لئے اردو کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا جو کسی بھی صورت میں اردو اکیڈمی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے جس طرح ملک کی کئی ریاستوں میں اردو کے فروغ کے لئے اردو اکیڈمیاں قائم ہیں اسی طرح یہاں بھی ایک اردو اکیڈمی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے’۔ وادی کے ایک کالج میں اردو پڑھانے والے ایک استاد نے بتایا کہ یہاں اردو کے ساتھ سرکار ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی اردو کے تئیں غیر ذمہ دارانہ سلوک روا رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہاں سرکاری سطح پر ہی اردو کے ساتھ ناروا سلوک روا نہیں رکھا جارہا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی یہاں اردو کے ساتھ ہمدردی زبانی جمع خرچ تک ہی محدود ہے’۔

موصوف استاد نے کہا کہ یہاں دکان کا بورڈ انگریزی میں تحریر ہے لیکن دکاندار کے ہاتھ میں اردو اخبار ہوتا ہے۔ وادی میں اردو کے محبین اور شیدائیوں کا ماننا ہے کہ اردو کے تحفظ اور فروغ کے لئے لوگوں کو بھی کمر بستہ ہونا چاہیے۔ ارود ایک ریسرچ اسکالر نے کہا کہ ہمارے نوجوان اردو زبان تو بولتے ہیں لیکن انہیں اردو لکھنا نہیں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہماری نوجوان نسل جو زیادہ تر انگریزی میڈیم اسکولوں میں ہی پڑھتے ہیں، اردو زبان بولتے ہیں لیکن وہ اردو میں لکھ نہیں پاتے ہیں’۔

قابل ذکر ہے کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے گزشتہ ماہ یو این آئی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں جموں و کشمیر میں اردو اکیڈمی قائم نہ ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اردو اکیڈمی کے قیام کے لئے نہ صرف یہاں کے محبان اردو کو آگے آنا چاہیے بلکہ جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کے لوگوں کو اس کے قیام کے لئے سرکار پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close