عجیب و غریب

راجیو دھون نے بتایا کہ مقدمہ کی دوران سنگھ نے مجھے قتل کی دھمکیاں دیں، لعنتیں برسائی گئیں، گالیوں سے بھرے تقریبا دو ہزار خطوط مجھے بھیجے گئےگھر کے باہر مجھ پر غلاظت پھینکی گئی! ترجمانی: اسامہ طیب

انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے راجیو دھون نے بتایا کہ مقدمہ کی دوران سنگھ نے مجھے قتل کی دھمکیاں دیں، مجھ پر لعنتیں برسائی گئیں، گالیوں سے بھرے تقریبا دو ہزار خطوط مجھے بھیجے گئے اور میرے گھر کے باہر مجھ پر غلاظت پھینکی گئی.

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں مسلمان کبھی بھی تشویشناک اور پریشان کن صورت حال کے ذمہ دار نہیں رہے ہیں بلکہ اس کے ذمہ دار ہندو ہیں. اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہندو سے مراد ہندو کمیونٹی نہیں بلکہ صرف سنگھ پریوار ہے. میرا تعلق اس قوم سے ہے جو اس طرح کے تشدد پر یقین نہیں رکھتی.

میں عدالت میں صرف مسلمانوں کے لئے حاضر نہیں ہوا تھا بلکہ میں ہندوں کے اس بڑے طبقہ کے لئے عدالت میں حاضر ہوا تھا جو سیکولرزم پر یقین رکھتا ہے.
یہ ہندو بمقابلہ مسلم کا مقدمہ نہیں تھا بلکہ یہ کانسٹیٹیوشن کی بنیادوں کو بچانے کا مقدمہ تھا جو داؤ پر لگا ہوا ہے.

راجیو دھون نے یہ بھی کہا کہ جب مقدمہ کورٹ میں چل رہا ہوتا ہے تو کوئی بھی شخص متوقع فیصلہ کے بارے میں بات نہیں کرسکتا کیونکہ یہ Contempt of court ہے، اور جب کوئی یہ کہتا ہے کہ "مندر وہی بنے گا” تو یہ بھی contempt of court ہے.
بی جے پی کا مینیفیسٹو کوئی مقدس کتاب نہیں ہے جس میں رام مندر بنانے کی بات کی گئی ہے اور یہ Contempt of Court ہے.

رویو پیٹیش کے بارے میں راجیو دھون نے کہا کہ یہ ایک اختیار ہے. اور میں صرف ایک وجہ سے رویو کا مشورہ دوں گا کیونکہ انصاف کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا. اور اب تک مسلم پارٹیوں نے یہ بیان نہیں کیا ہے کہ اس فیصلہ میں وہ کیا اعتراضات درج کرائیں گے. اور ان اعتراضات کو ریکارڈ میں رکھنے کا واحد راستہ رویو ہے.

ترجمانی: اسامہ طیب

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close