ہندوستان

یو پی کے بعد راجستھان کی مسلم لڑکیوں نے کیا کمال ، 5 بیٹیاں جج کے امتحان میں کامیاب !

خاص بات یہ ہے کہ منتخب ہونے والی پانچوں لڑکیاں پوری طرح سے سوشل میڈیا سے دور رہتی ہیں اور گھریلو ہیں۔ واحد مسلم نوجوان محمد فیصل بھی کم پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔
جے پور ۔ 23 نومبر 2019 (آس محمد کیف)
ملک بھر کی مسلم بیٹیوں میں جیوڈیشیل سروسز کے تئیں رجحان لگاتار بڑھ رہا ہے۔ 3 مہینے قبل اتر پردیش جیوڈیشیل سروسز میں 18 مسلم بیٹیوں کے بعد اب راجستھان جیوڈیشیل سروسز میں 5 مسلم بیٹیوں کا انتخاب ہوا ہے۔ یہ تعداد کم نظر آتی ہے، لیکن اتر پردیش میں 610 سیٹ کے مقابلے راجستھان میں صرف 197 سیٹ تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ ان 197 میں سے صرف ایک مسلم نوجوان محمد فیصل کا سلیکشن ہوا ہے۔

راجستھان میں حال ہی میں جیوڈیشیل سروسز کے لیے کم از کم عمر 23 سال سے گھٹا کر 21 سال کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے ٹاپر مینک پرتاپ ملک کی سب سے کم عمر کے جج بن گئے ہیں۔ راجستھان جیوڈیشیل سروس کے جمعرات کے روز برآمد نتیجہ میں ثانیہ منیہار، ساجدہ، ثنا، ہما کھوہری، شہناز خان نے اس مرتبہ ’یور آنر‘ کہلانے کا حق حاصل کیا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ ان میں سے چار لڑکیاں بے حد پسماندہ طبقہ سے آتی ہیں۔ راجستھان میں خواتین کی شرح خواندگی بہت کم ہے اور مسلم لڑکیاں تو بے حد ہی پچھڑی ہوئی ہیں۔ 2017 میں یہاں کی دو خواتین جہاں آرا اور افروز بیگم کے ’قاضی‘ بننے پر کافی خوشی منائی گئی تھی۔ دونوں خواتین نے مہاراشٹر سے اسلامی شریعہ قانون میں پڑھائی کے بعد قاضی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

راجستھان جیوڈیشیل سروسز کے برآمد نتائج میں ایک بات حیرت زدہ کرنے والی ہے۔ وہ یہ کہ سرفہرست 10 منتخب امیدواروں میں سے 8 لڑکیاں ہیں۔ ایک اور بات یہ بھی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ ریزلٹ میں دو منیہاربرادری کی لڑکی کا نام شامل ہے اور پہلی بار کوئی منیہاری لڑکی جج بنی ہے۔ اسی طرح راجستھان کی سب سے پسماندہ کھوری برادری کی ہما بھی جج بن گئی ہیں۔ جودھپور کی ساجدہ اور جے پور کی شہناز خان نے بھی اس مقام تک پہنچنے میں کافی جدوجہد کی ہے۔

جے پور کی عرشی نور کے مطابق لڑکیوں میں ایک زبردست تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مسلم لڑکیوں میں جیوڈیشیل سروسز کی طرف رجحان لگاتار بڑھ رہا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں پسماندہ طبقات کی لڑکیاں بہت اچھا کر رہی ہیں۔

راجستھان میں 9 فیصد مسلم آبادی ہے جو اترپردیش کی 22 فیصد آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہاں خواتین کی شرح خواندگی محض 52 فیصد ہے جب کہ مسلمانوں میں یہ محض 44 فیصد ہے۔ حالانکہ 2001 کے مقابلے میں اس کارکردگی کو اچھا نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جو خوش آئند ہیں۔ جھنجھنو کی رہنے والی ثانیہ کو 30واں رینک ملا ہے جب کہ ساجدہ کو 37واں، ثنا حکیم کو 130واں، ہما کھوہری کو 136واں اور شہناز کو 143واں رینک حاصل ہوا ہے۔

اودے پور کے خان جی پیر علاقے کے غوثیہ کالونی میں رہنے والی شہناز لوہار اودے پور سے جج بننے والی واحد مسلم لڑکی ہے۔ شہناز نے پڑھائی اپنے وکیل والد سلیم خان کی رہنمائی میں کی اور یہ ان کی پہلی کوشش تھی۔ شہناز کہتی ہیں کہ ان کی کامیابی کا کوئی خاص فارمولہ نہیں ہے۔ جب بھی گھر کے کام سے فرصت مل جاتی تھی تو پڑھائی کر لیتی تھیں۔ خاص بات یہ ہے کہ منتخب ہونے والی پانچوں لڑکیاں پوری طرح سے سوشل میڈیا سے دور رہتی ہیں اور گھریلو ہیں۔ واحد مسلم نوجوان محمد فیصل بھی کم پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔

دوسری طرف جون میں آئے اتر پردیش جیوڈیشیل سروسز کے نتائج میں 38 مسلم بچے منتخب ہوئے تھے جن میں سے 18 لڑکیاں تھیں۔ اب ان سبھی کو تعیناتی مل گئی ہے۔ سہارنپور کی فرح کو مظفر نگر اور مظفر نگر کی ہما کو سہارنپور بھیجا گیا ہے جب کہ کھتولی کی زینت کو بھی سہارنپور بھیج دیا گیا ہے۔ جسیم خان کو بدایوں میں جونیئر جج بنایا گیا ہے۔ مہر جہاں کو اوریہ، عمیم شاہنواز کو بارہ بنکی، بشریٰ نور کو کانپور، بشریٰ خورشید کو متھرا، مینا اختر کو ایٹہ بھیجا گیا۔

بہر حال، راجستھان کے رکن اسمبلی واجب علی کے مطابق ریاست کے مسلمانوں کے لیے یہ نہایت ہی اچھی خبر ہے، خصوصاً لڑکیوں کے لیے۔ یہاں مسلم لڑکیاں تعلیم کے معاملے میں بہت پیچھے ہیں، کیونکہ لڑکیاں بہت جلد اسکول جانے سے روک لی جاتی ہیں۔ آگے پڑھائی کے لیے انھیں بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راجستھان جیوڈیشیل سروسز کا تازہ ریزلٹ یقینی طور پر دوسری بیٹیوں کو حوصلہ دے گا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close