ہندوستان

بابری مسجد فیصلہ پر مسلم قیادت ’بھیڑ‘ کی طرح سُر میں سُر ملا رہی ہے

آل انڈیا ہیومن کئیر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ’جائزہ میٹنگ ‘ میں جنرل سکریٹری ممتاز عالم کا خطاب

بابری مسجد فیصلہ پر مسلم قیادت ’بھیڑ‘ کی طرح سُر میں سُر ملا رہی ہے
آل انڈیا ہیومن کئیر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ’جائزہ میٹنگ ‘ میں جنرل سکریٹری ممتاز عالم کا خطاب
نئی دہلی؍13نومبر2019:بابری
 مسجد مقدمہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر اب آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ دانشور طبقہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کر رہا ہے تو مسلم قیادت بھی فیصلے سے مطمئن نظر نہیں آرہی ہے۔ لیکن مطمئن نہ ہونے کے باوجود مسلم قیادت نے جس طرح پورے معاملے کو سنبھالا وہ قابل تعریف ہے۔ پورے ملک سے کہیں بھی ایک واقعہ پیش نہیں آیا جس سے امت شرمسار ہوسکے۔ مسلمانوں نے ثابت کردیا کہ ہم قانون کے ماننے والے اور ملک کے سچے وفادار ہیں۔ اسی سلسلے میں آج ہیومن کیئر فائونڈیشن کی جانب سے ایک ہنگامی میٹنگ کا انعقاد ہوا، جس میں دہلی یونٹ کے ممبران کے علاوہ علاقے کے دانشور اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہیومن کیئر فائونڈیشن کے جنرل سکریٹری ممتاز عالم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہو یا تین طلاق پر بل اور بابری مسجد وغیرہ کافیصلہ نریندر مودی حکومت کے پہلے ہی مرحلے میں ہو سکتا تھا!مگر ایک حکمت عملی کے تحت کہیں عالمی سطح پر ہماری شاخ مجروح نہ ہو جائے اس لیے ان تمام بڑے فیصلوں کو اس وقت تک کے لیے روک دیا گیا جب تک کہ مسلمانوں کی قیادت کا دم بھرنے والوں کو اپنے گیم پلان میں شامل نہ کرلیا جائے! مودی سرکار نے اپنا گذشتہ پانچ سال مسلمانوں اور اس کی قیادت کی مزاج کو بھانپنے میں لگا دیے!کھلے عام ہجومی تشدد کے ذریعے مسلمانوں کا قتل عام اور قاتلوں کی حوصلہ افزائی پر مسلم قیادت کی خاموشی سے یہ پتہ لگا لیا کہ مسلم قیادت اب وہ پہلے والی قیادت نہ رہی جو کبھی ہم پر حکومت کرتی تھی!زکوۃ و صدقات سے پروان چڑھی مسلم قیادت جس کی ضمیر مردہ ہو چکی ہے اور دل سیاہ ہو چکے ہیں وہ ایک مر دار ڈھانچہ کی شکل میں زندہ لاش کے مانند ہے؟ہجومی تشدد پر مسلم قیادت کی جانب سے کوئی بڑا مظاہرہ نہیں ہوا اس کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی گئی اس کے خلاف مظبوطی سے عدالتوں میں چارہ جوئی نہیں کی گئی!مسلم قیادت کی ایک بہت بڑی کمزوری آر ایس ایس اور مودی سرکار کے ہاتھوں لگ گئی ہماری قیادت کی نکیل سرکاری ہاتھوں میں جانے کی وجہ سے آج بڑے بڑے ہمارےملی رہنما سرکار کی موسیقی پر خوب رقص کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ملک کے بڑے بڑے علماء اب آر ایس ایس کے سربراہ سے کھلے عام خوب مل رہے ہیں انکی چاپلوسی اور جی حضوری میں کوئی کمی نہیں کرتے ہیں ابھی گزشتہ دنوں ملک کے ایک نامور قائد اور ملی رہنما جنیوا جاکر کشمیر پر لیا گیا حکومت کے فیصلے کو درست بتا دیا کہ یہ فیصلہ کشمیریوں کے فلاح و بہبود کیلئے ہے اس فیصلے پر تمام کشمیری سجدہ شکر بجا لانے کے لیے اپنے اپنے گھروں میں بے مدتی اعتکاف میں بیٹھ گئے ہیں لہٰذا فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے!جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قوم نے اطمینان کا سانس لےلیا کہ ہم نے اپنے قائد اور رہنما کی آواز سن لی ہے اب کشمیریوں کی چیخ و پکار سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے!یہی حال تین طلاق پر بھی ہوا کہ وارثین انبیاء  تین طلاق پر بھی حکومت کے ساتھ بہت مضبوطی سے کھڑے رہےمودی سرکار بے فکر ہو گئی کہ اب  رام مندر کا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے بابری مسجد پر صدائیں بلند کرنے والوں کی آواز اب ہمارے بس میں ہے رام مندر کے خلاف آواز اٹھنے کا امکان ختم ہوچکا ہےتاہم اسی درمیان ایک مسلم مرکزی وزیر نے  اپنی کامیاب میٹنگ کی خوش خبری حاکمِ وقت کو پہنچاتے ہوئے عدالت کے فیصلے کے بعد ملک میں خوشگوار حالات کا اشارہ دے کر رہی سہی مسلم قیادت کی بھرم بھی ختم کردی!لہذا سب کچھ آر ایس ایس اور سرکار کے منشا کے مطابق ہوتا گیا قوم نے ثابت کردیا کہ وہ وارثین انبیاء کے فیصلوں پر سوال نہیں کر یگی اور جو سوال کرے گا وہ دشمن خدا و رسول اور اسلام دشمن سمجھا جائے گا۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close