ہندوستان

اجتماعی ترقی کیلئے صلاحیتوں اور و سائل کا استعمال ناگزیر ! مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی

دفتر صفا بیت المال پر مولاناکا خطاب

اجتماعی ترقی کیلئے صلاحیتوں اور و سائل کا استعمال ناگزیر !

دفتر صفا بیت المال پر مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 08؍نومبر 2019 (پریس ریلیز)
اللہ تعالی نے امت ِ مسلمہ کو جو صلاحیتیں اور وسائل عطا فرمائے ہیں ان صلاحیتوں اور وسائل کا دائرہ صرف اپنے پیٹ کی روزی روٹی کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ ملت کے اجتماعی امور کی تکمیل کیلئے بھی ہے ، امت میں جس طبقہ اور شعبہ سے بھی تعلق رکھنے والے افراد ہوں ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور اپنے وسائل کو اجتماعی اور مجموعی ترقی کیلئے استعمال کرنے کو فرض تصور کریں، چاہے وہ علماء و ائمہ ہوں چاہے وہ انجینئر ، صحافی ، ڈاکٹر اور وکیل ہوں وہ اپنی صلاحیتوں کو امت کے کمزور طبقات کی جہالت ، بے دینی اور غربت کے خاتمہ کے لئے استعمال کریں ان خیالات کا اظہار ملک کے نامور عالم دین صاحب ِ نسبت بزرگ،اسلامک اسکالر ، مفسر قرآن حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی مدظلہ نے ہندوستان کی معروف رفاہی و فلاحی تنظیم صفا بیت المال کے دفتر پر تنظیم کے ذمہ داران و عملہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور اپنے سلسلۂ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ بنی امیہ کے دور میں وقف کا اس قدر منظم و مستحکم نظام تھا کہ ہر مد کیلئے باقاعدہ وقف کیا ہوا سرمایہ موجود تھا اور اسلامی بیت المال کے مد سے ساری ضرورتوں کی تکمیل کرتا تھا ، تاریخ اوقاف ِ دمشق کی وسعت اور اس کے استحکام کا یہ عالم تھا کہ کوئی مدایسا نہ تھا جس میں وقف نہ کیا گیا ہو عوام وخواص میں وقف کا ا س قدر مزاج تھا کہ حکومت نے لوگوں کو حکم دے رکھا تھا کہ اب وقف کردہ چیزوں کے لینے کی بیت المال میں کوئی گنجائش باقی نہیں ہے ، روزانہ سماج کے حالات تازہ بتازہ آتے تھے اور ان کے مطابق وقف کا استعمال ہوتا تھا ایک بوڑھی عورت نے دمشق حکومت کو درخواست دی اس سے کہا گیا کہ بیوائوں ، یتیموں ، معذوروں غرض انسانوں کی ہر خدمت کے لئے وقف کیا ہوا مال ضرورت سے زائد موجود ہے البتہ سردی کے دنوں میں آنے والے مسافر پرندوں کو دانہ ڈالنے کیلئے وقف کی گنجائش ہے ، امت ِ مسلمہ کو اس قدر سر بلندی ملی تھی جس کی بنیادی وجہ یہی جذبۂ خدمت ووقف تھا ، امت ِ مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اپنے وسائل کا استعمال صرف اپنی روئی بوئی کے لئے ہی استعمال نہ کریں بلکہ امت کے کمزور طبقات پر بھی اس کا استعمال کیا جائے ، ملک میں غربت و جہالت بہت اہم اور بہت بڑا مسئلہ ہے اہل علم و فن اپنی صلاحیتوں اور اپنے وسائل اس غربت و جہالت کو کم یا ختم کرنے کیلئے ، استعمال کریں ، اور یہ کام بلاتفریق مذہب ہو ، انسانیت کی بنیاد پر ہو ، اسلام میں مذہب کی تفریق کی کوئی اجازت نہیں ہے ؟ انسانیت کی ترقی میں تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، یہ بات یاد رکھیں کہ زکوٰۃ کانظام مکہ مکرمہ میں بھی تھا سورۂ مزمل جو ابتدائی سورتوں میںسے ایک سورت ہے جس میں زکوٰۃ کاذکر ہے ، مدینہ میں زکوٰۃ کا نصاب مرتب ہوا، مولانا نے خدمت ِ خلق کو غیر معمولی کام قرار دیا اور کہاکہ آپ میں کا ہر شخص غیر معمولی کام کررہا ہے اس خدمت پر سجدۂ شکر بجالائیں اس وقت لوگ مایوسی کا شکار ہیں اپنی خدمات اور صلاحیت سے انکی مایوسی کو دور کرنے کی تدبیریں کیجئے اہل ملک کی غربت بے دینی اور جہالت ایک چیلنج بنی ہوئی ہے اس چیلنج کو قبول کیجئے ، امید کہ صفا بیت المال کا یہ نیٹ ورک پورے ملک کو احاطہ کرے گا ، مولانا نے صفا بیت المال کی خدمات اور اس کے انتظامی نہج کو مثالی قرار دیا ٹرسٹیانِ صفا بیت المال نے مولانا کا استقبال کیا اور مرکزی صدرنے عملہ کے تمام افراد کاتعارف کروایا واضح ہوکہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کا قائم کردہ رحمن فائونڈیشن ان دنوں صفابیت المال کے طریقۂ کار کے مطابق چل رہا ہے اور مولانا مختلف علاقوں سے تربیت حاصل کرنے کے لئے صفابیت المال کے دفتر پر روانہ فرمارہے ہیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close