ہندوستان

مسلمان وطن پرست نہیں بلکہ محب وطن ہے: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

مسلمان صرف اللہ کی عبادت اور اسی کی پرستش کرتا ہے!

مسلمان وطن پرست نہیں بلکہ محب وطن ہے: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی
مسلمان صرف اللہ کی عبادت اور اسی کی پرستش کرتا ہے!

بنگلور، 5؍ نومبر (محمد فرقان): وطن سے محبت ایک ایسا فطری جذبہ ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے۔جس زمین میں انسان پیدا ہوتا ہے، اپنی شب و روز گزارتا ہے، جہاں اس کے دوست و احباب، والدین و اہل خانہ، خاندان و قبیلہ کا پیار پایا جاتا ہے۔ وہ زمین اس کا اپنا گھر مادر وطن کہلاتی ہے، وہاں کی گلی، وہاں کے درو دیوار، وہاں کے پہاڑ، گھاٹیاں، چٹان، پانی اور ہوائیں، ندی نالے، کھیت کھلیان غرضیکہ وہاں کی ایک ایک چیز سے اس کی یادیں جڑی ہوتی ہیں۔وطن سے محبت ایک انسان کی فطرت میں داخل ہے۔اس فطری جذبہ کا اسلام نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ اسکی تعلیم بھی دیتا ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار مسجد منورہ، جامعہ فضیلت القرآن، کے جی ہلی، بنگلور میں ہزاروں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ؐنے زندگی کے ہر مرحلے میں ہماری رہنمائی فرمادی، یہاں تک کہ وطن سے محبت کرکے بھی یہ پیغام دیا کہ اپنے وطن سے محبت، اسکی حفاظت اور اسکی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا ایک مسلمان شہری کا فریضہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ بغض لوگ مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمان دیش بھکت نہیں ہے! مولانا نے اس شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے واضح الفاظ میں فرمایا کہ ’’محبت‘‘ اور چیز ہے اور ’’پرستش یا بھکتی‘‘ اور چیز ہے۔وطن پرستی یا دیش بھکتی اور حب الوطنی یا دیش پریمی دو بلکل مختلف چیزیں ہیں۔ پرستش یا بھکتی کے معنٰی اسکی پوجا کرنا، یا اسکی عبادت کرنا یا لائق معبود سمجھنے کے آتے ہے۔لیکن مسلمان فقط اللہ کے سوا کسی اور کو لائق معبود نہیں مانتا اور نہ ہی اللہ کے علاوہ کسی کی پوچا یا عبادت یا پرستش کرتا ہے۔حب الوطنی ایک فطری جذبہ ہے لیکن وطن پرستی یہ ہے کہ انسان حق و ناحق کا معیار خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنے وطن کو بنالے۔ جو کہ شرک کی ایک شکل ہے اور اسلام اس کی بھی اسی طرح بیخ کنی کرتا ہے جس طرح شرک کی باقی تمام شکلوں کی۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں پر وطن پرستی دیش بھکتی اور اسلام آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔لہٰذا مسلمان محب وطن یا دیش پریمی ہے لیکن وطن پرست یا دیش بھکت ہرگز نہیں۔مولانا شاہ قاسمی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، مسلمانوں کے پاس اسلامی عقائد و نظریات کے خلاف کوئی عقیدہ و نظریہ قابل قبول نہیں۔ یہاں تک کہ مسلمان حضورؐ کو آخری نبی اور امام الانبیاء مانتا ہے اور انہیں کی اتباع کرتا ہے لیکن انکی عبادت نہیں کرتا اور نہ ہی اسکی اجازت اسلام دیتا ہے۔مولانا نے کہا کہ جب کوئی مسلمان اپنے نبی کی عبادت نہیں کرتا اور نہ ہی اُنہیں خدا مانتا ہے تو وہ کسی اور شئی کی عبادت کیسے کرے گا اور کیونکر اسے خدامانے گا؟ مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ مسلمان اپنے وطن عزیز ہندوستان سے بھر پور محبت رکھتے ہیں، وطن کی ترقی کے لئے سعی کرتے ہیں، وطن کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔یہ تمام امور ہم مسلمانوں کی وطن سے وفاداری کی دلیل بیں، لیکن مسلمانوں کو اگر اپنے خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کیلئے کہا جائے یا وطن کی پرستش یا اسکی بھکتی یا وندے ماترم، بھارت ماتا اور جے شری رام وغیرہ کے نعرے لگانے کیلئے مجبور کیا جائے گا تو مسلمان اسے قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور وہ ناقابل قبول ہوگا۔مولانا قاسمی نے فرمایا کہ دستور ہند کے مطابق مسلمانوں کو اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، اور مسلمان تو ملک میں امن وسلامتی کے ساتھ رہتے ہیں، ظلم وزیادتی سے روکتے ہیں، دہشت وبربریت کو ختم کرنے میں تعاون کرتے ہیں۔بلکہ اس ملک کی آزادی بھی مسلمانوں ہی کی مرہونِ منت ہے۔مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے فرمایا کہ ہندوستان کی ہر ایک شہری کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ حب الوطنی اور وطن پرستی ایک دوسرے سے جدا ہیں اور مسلمان وطن پرست نہیں بلکہ محب وطن ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close