ہندوستان

چکھلی پولس اسٹیشن میں امن کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد

ہم ایک تھے ایک ہے ایک رہے گے۔ دلیپ بھجبل پاٹل، بلڈانہ ایس پی
چکھلی پولس اسٹیشن میں امن کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد

چکھلی ضلع بلڈانہ 6 نومبر (ذوالقرنین احمد )

بابری مسجد، رام مندر متنازع اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے عدالت میں مقدمہ جاری ہے، 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے تین حصوں میں متنازع زمین کو منقسم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ لیکن کسی بھی فریق نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا اسی طرح بابری مسجد کیس پیروی کر رہے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمیت علماء ہند نے بھی اس کے خلاف سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جو کہی سالوں سے عدالت میں چل رہا ہے۔ یاد رہے 6 دسمبر 1992 میں کارسیوکوں نے پری پلاننگ کے تحت مختلف مقامات سے جمع ہوکر بابری مسجد کو شہید کردیا تھا اس موقع پر پورے میں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ اور جانے مالی نقصان ہوا تھا۔ کئی دہائیوں کے بعد اب بابری مسجد و رام جنم بھومی کے متنازع اراضی پر سپریم کا حتمی فیصلہ ہونا یقینی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سبھی مذہب کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کو تسلیم کرنے کو لے کر پورے ملک میں امن کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ جس مین آر ایس ایس کے کارکنان بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اور پولس اسٹیشن کے ادیھکاریوں اور تہسلداروں کے تعاون سے مذہبی رہنماؤں اور سماجی شخصیات کے ساتھ امن و امان قائم رکھنے کیلئے میٹنگ منعقد کی جارہی ہے۔ جس میں سبھی افراد سے امن کی اپیل کی جارہی ہے۔ اسی پیش کے نظر ، چکھلی شہر میں پولیس اسٹیشن کی جانب سے امن کمیٹی کی میٹنگ منعقد کی گئی جس میں شہر کی سماجی ،سیاسی، مذہبی، صحافتی، شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ یہ میٹنگ  بلڈانہ ضلع کے  ایس پی دلیپ بھجبل پاٹل صاحب کی صدارت میں رکھی گئی۔
انہوں نے اس میٹنگ میں شریک سبھی مذہب کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف تعلقوں میں امن کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اور آج چکھلی میں یہ میٹنگ منعقد کی گئی ہے۔ رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے متنازع زمین کے فیصلہ پر کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ آنے والا ہے۔ پانچ رکنی بینچ کے  ججز اس پر مقدمہ کی پیروی کر رہے ہے۔ اور سپریم کورٹ حتمی فیصلہ اسی مہینے میں ہونے والا ہے  سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنا سبھی مذہب کے عوام کی ذمہ داری ہے۔ اور کہا کہ فیصلہ آنے پر ہر کوئی اپنے مذہب کے مطابق ردعمل ظاہر کرتا ہیں۔ لیکن اس کا اظہار اس طرح سے کرےجس میں کسی کی دل آزاری نا ہونے پائے، بابری مسجد اور رام جم بھومی کے متنازع زمین کے آخری فیصلہ ہونے جارہا ہے۔ رام مندر اور بابری مسجد کے متنازع مسلے  پر کہا کہ فیصلہ آنے پر سڑکوں پر کسی قسم کی خوشی غم کا اظہار نا کیا جائے جو بھی کرنا ہے وہ چار دیواری کے اندر کرنا چاہیے، تاکہ دوسرے مذہب کی افراد کے جزبات کو ٹھیس نا پہنچنے پائے اور ماحول کا امن خراب  نا کیا جائے۔ سماج کے بزرگ اور سماجی سیاسی با شعور افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی عوام کو قابو میں رکھنے کی کوشش کریں۔ لا اینڈ آرڈر پر کہا کہ امن و امان قائم رکھنے  کیلے دفعہ 144 نافذ کی جاتی ہے۔ بلڈانہ ایس پی پاٹل صاحب نے ایک گیت کے چند شعر کہے ہم ایک ہے ایک تھے ایک رہیں گے کا پیغام دیا،
چکھلی پولس تھانیدار، گلاب راؤ واگھ نے کہا کہ شہر میں امن و امان قائم رکھنے کیلے یہ میٹینگ کا انعقاد کیا گیا ہے، اور سبھی سیاسی سماجی مذہبی شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔
چکھلی تہسلدار صاحب، اجیت کمار یڑے نے کہا کہ چکھلی شہر کی یہ تہذیب رہی ہے کہ سبھی دھرم کے لوگ ملک جل کر رہتے ہیں اور یہاں کی عوام ایک دوسرے کے مسائل کو حل کر‌نے میں مدد کرتے ہے۔ اسی طرح صحافتی خدمات انجام دینے والے صحافی برادری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری کافی مددگار ہے۔ اور اپنے کام میں غیر جانب دار ہے۔
چکھلی نگر پریشد کے سی ای او نے سبھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بارہ ربیع الاول کے موقع پر میں خود اس میں شرکت کیلے بہت پر امید ہوں، اسی طرح کہا کہ خستہ حال راستے کے  کام جلد پورے کیے جائےگے۔

(سنگھ پریوار )کے ضلع سنچلک سولکر  نے کہا کہ مجھے 61 سالوں میں پہلی مرتبہ امن کمیٹی میں شامل ہونا‌ پڑا ہے۔اور اس موقعہ پر نوجوانوں کو قابو میں رکھا جائے تو کوئی فساد نہیں ہوگا اسطرح کی امید ظاہر کی ہے۔

رامداس دیوڑھے نے چکھلی اسمبلی حلقہ سے نو منتخب رکن اسمبلی شویتا مہالے پاٹل کی طرف سے پولس اسٹیشن کے سبھی ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا، دیوڑھے نے کہا بابری مسجد و رام مندر تنازعہ جو سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور حال میں اسکے نتیجہ ظاہر ہونے والا ہے اس لیے ہندو و مسلم کو یہ پیغام دیا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہر حال میں قبول کریں،

شری رام کریڈیٹ بینک کے صدر پنڈت راؤ دیشمکھ نے کہا کے چکھلی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندو مسلم سبھی ایک ساتھ مل جل کر مذہبی تہوار کو مناتے ہیں اور سب کے اندر یکجہتی ہونے کی وجہ سے فساد کی گنجائش نہیں ہے۔ بابری مسجد کی فیصلہ کو لے کر کہا کہ سبھی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنا چاہیے۔
عبدالرفیق سیٹھ‌ چکھلی نگر پریشد کے ورودھی پکش کے لیڈر نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرےگے۔
سنیل لاوٹھی، نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنے کی تاکید کی۔
اس موقع پر چکھلی کی سماجی ،سیاسی، مذہبی، صحافتی شخصیات موجود تھے۔ جس میں چکھلی مساجد کے ائمہ کرام، جماعت اسلامی ہند چکھلی کے ذمے داران، ملی تنظیموں کے ذمہ دران، وغیرہ سیکڑوں کے تعداد میں موجود تھے۔ اس پروگرام کی نظامت کے فرائض صابر قرشی نے انجام دی۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close