محرم الحرام قمری سال کا ابتدائی، بابرکات، عظمت اور فضیلت والا مہینہ ہے! شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

محرم الحرام قمری سال کا ابتدائی، بابرکات، عظمت اور فضیلت والا مہینہ ہے!
یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم الشان اور عظمت کا حامل دن ہے: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

بنگلور، 8؍ ستمبر (محمد فرقان): قمری سال کے چار حرمت والے مہینوں میں ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب شامل ہیں۔حضرت عمر فاروق ؓنے ہجرت مدینہ منورہ کی بنیاد پر یکم محرم الحرام سے تقوم اسلامی کی ابتداء کی تھی اور آج 1441؁ ہجری چل رہا ہے۔محرم الحرام بڑی عظمت، بابرکات اور فضیلت والا مہینہ ہے۔اس ماہ مبارک کی دسویں تاریخ یوم عاشورہ سے تاریخ اسلام کے کئی اہم واقعات وابستہ ہیں۔مذکورہ خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ اسلامی سال کی ابتداء ہی شہادت فاروق اعظم ؓسے ہوتی ہے۔یکم محرم الحرام کو حضرت عمر فاروقؓ نے جام شہادت نوش فرمایا تھا۔مولانا فرمایا کہ محرم کی دسویں تاریخ یعنی یوم عاشورہ بڑی بابرکت اور فضیلت والا دن ہے۔مولانا قاسمی نے فرمایا کہ وہ یوم عاشورہ ہی تھا کہ آسمان وزمین، قلم اور حضرت آدم، حضرت عیسٰی اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو پیدا کیا گیا۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جودی پر لنگرانداز ہوئی۔ اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بنایا گیا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی۔ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات حاصل ہوئی۔ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔ اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت ملی۔ اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفاء نصیب ہوئی۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔ اور اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایاگیا۔ اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا۔ اسی دن نواسئہ رسول و جگر گوشہ بتول حضرت سیدنا حسین ؓکو میدانِ کربلا میں شہید کیا گیا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ آج کچھ لوگ ماہ محرم الحرام خصوصاً یوم عاشورہ کو یوم سیاہ اور منحوس مانتے ہیں گویا انکے نزدیک شہادت منحوس ہے۔مولانا نے دوٹوک کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ حضرت حسینؓ کی مظلومانہ شہادت یوم عاشورہ کو ہوئی تھی۔لیکن اسلام میں شہید کو عظیم مقام عطاء کیا گیا ہے، جس کیلئے حضوؐرخود دعا کیا کرتے تھے ۔مولانا قاسمی نے فرمایا کہ آج ایک بڑے طبقے کو یوم عاشورہ کی فضیلت معلوم نہیں، فقط شہادت حسینؓ کو یاد رکھتے ہوئے دیگر تمام واقعات کو بھولا دیا جو تاریخ کے ساتھ ایک بڑی ناانصافی ہے۔مولانا نے فرمایا کہ یوم عاشورہ کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ میں محرم کے پورے ہی مہینے کو خصوصی عظمت حاصل ہے۔ شاہ ملت نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ بدعات و خرافات سے بچتے ہوئے یوم عاشورہ کی فضیلت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسکی قدر کریں۔ انہوں کہا کہ یوم عاشورہ کا روزہ رکھیں، ساتھ میں محرم کی نو یا گیارہ تاریخ کا روزہ ملالیں۔ مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے کہا کہ عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے میں وسعت اورفراخی کریں کیونکہ اس عمل کی برکت سے پورا سال اللہ تعالیٰ فراخیِ رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں