اہل بیت نے دین اسلام کے تحفظ کے لئے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں !پیام شہدائے اسلام کانفرنس میں علماء کا اظہار خیال ۔

اہل بیت نے دین اسلام کے تحفظ کے لئے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں !پیام شہدائے اسلام کانفرنس میں علماء کا اظہار خیال ۔

کانپور ۔5/ ستمبر2019 ء  (محمد سیف الاسلام مدنی)مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم نور گنج پکھرایاں ضلع کانپور دیہات یوپی الہند میں، ماہ محرم الحرام کی مناسبت سے، پیام شہدائے اسلام کانفرنس کا انعقاد کیا گیا!جسمیں علماء کرام نے شہدائے اسلام کے کارناموں اور انکے مناقب پر روشنی ڈالی ۔
فاضل نوجوان مفتی محمد شاہد قاسمی نے خطاب فرماتے ہوئے کہا محرم الحرام محترم اور عظمت والا مہینہ ہے ، جسکی عظمت قبل از اسلام بھی مسلم بھی تھی، اور زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی اس ماہ کا احترام کیا کرتے تھے!یہ مہینہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے، کہ اسی ماہ سے، اسلامی تقویم کا آغاز ہوتا ہے، اور یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت کی یادگار ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، نے مکہ مکرمہ سے، آزادنہ طور پر احکام اسلام پر عمل کرنے، اور ایک اسلامی سوسائٹی، تیار کرنے کے لئے، مدینہ کی طرف ہجرت کی!
انہوں نے کہا، کہ دین اسلام بے شمار قربانیوں اور جاں فشانیوں کے بعد، پائدار ہوا، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اہل بیت اور آپکے جاں نثار ساتھیوں نے اسلام کی راہ میں، ہر ممکن قربانی دی، جان مال اولاد کا نذرانہ، راہ اسلام میں پیش کردیا!اسلام وہ شجر نہیں جسنے پانی سے غذا پائی،دیا خون صحابہ نے تب اس میں بہار آئی،گلشن اسلام کی آبیاری میں حضرات صحابہ کرام، کی جو قربانیاں دی ہے، وہ تاریخ اسلام کا ایک روشن اور تابناک باب ہے،جسکو شام قیامت تک فراموش نہیں کیا جاسکتا!سیدنا حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ، نے بھی اسی ماہ میں شہادت پائی،خلیفتہ المسلمین، دوم نے اللہ سے دعاء کی تھی، کہ اے اللہ مجھے جام شہادت سے سرفراز فرما، اللہ رب العالمین نے، آپکی اس دعاء کو شرف قبولیت کا اعزاز بخشا، اور آپ ایک محرم الحرام،کو شہید ہوئے، فجر کے وقت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، میں حالت نماز میں، تلاوت قرآن پاک کرتے ہوئے، امیر المومین نے اپنا سفر آخرت شروع کردیا! 
سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے، اللہ کی راہ میں بے مثال قربانی دی، اور جام شہادت نوش کیا، ظالم بلوائیوں نے، اٹھارہ روز بھوک پیاس کے عالم میں آپکو محصور کرکے، دردمندانہ طریقہ سے شہید کردیا!عوام میں محرم الحرام کا مہینہ، اس لئے زیادہ مشہور ہے، کہ اس ماہ کی دس تاریخ کو نواسہ رسول، نوجوانان جنت کے سردار، سیدنا حسین ابن علی نے شہادت پائی،آپکی شہادت تاریخ اسلام کا ایک طویل عنوان ہے، سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے، اساس اسلام کے تحفظ کے لئے اپنے جان کی قربانی، اللہ کی راہ میں پیش کردی،اہل کوفہ کی غداری، اور خلیفہ وقت کے لشکر نے، جسکا سپہ سالار ابن زیاد تھا، میدان کربلا میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرلیا،اور آپے بہتر ساتھیوں کے ساتھ جس میں 22/ کے قریب شہدا، اہل بیت میں سے، انکو ظالمانہ طریقہ سے شہید کردیا!اہل کوفہ نے امام حسین کی جانب قاصد اور خطوط بھیجے کہ آپ کوفہ آجائیں، ہم آپکے ہاتھ پر بیعت، کرنے کوتیار ہیں،”اہل مکہ اور اہل مدینہ نے آپکو عراق جانے سے روکا، اس بناء پر کہ وہ اس وقت کے حالات سے واقف تھے،مگر سیدنا امام حسین، اہل کوفہ، پر اعتبار کرتے ہوئے، سفر کے لئے تیار ہوگئے، مگر آپ جب کوفہ پہونچے تو وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ غداری کردی، اور صاف  کہا کہ ہم نے آپکے پاس کوئی خطوط اور کوئی قاصد نہیں بھیجا!خلیفہ وقت یزید کےلشکر نے، امام حسین، اور تمام ساتھیوں کو شہید کردیا،آپ اساس اسلام کے گوہر نایاب شخصیات میں ہیں، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، ارشاد فرمایا کہ حسنین میرے دنیا کے گلدستے ہیں، ایک موقع پر ارشاد فرمایا،کہ جس نے حسنین سے محبت کی اسنے مجھسے محبت کی، اور  جسنے ان سے بغض رکھا، اسنے مجھسے بغض رکھا!آپکی سیرت اور شہادت قابل رشک ہے، مگر ایک طویل سے عرصہ سے اہل روافض، محرم الحرام کے مہینہ کو ماتم والا مہینہ خیال کرتے ہیں، اور امام حسین کی شہادت، پر روتے اور سینہ پیٹتے ہیں،حالانکہ شہادت فخر کی بات ہے، اگر شہادت ماتم کرنے کی چیز ہوتی، تو تقریباً 27000/ صحابہ اسلامی تاریخ میں شہید ہوئے، حسین ابن علی کی شہادت پر ماتم کرنے والے لوگ، امام حسین کے والد محترم، داماد رسول شیر خدا، علی ابن ابی طالب کی شہادت پر ماتم نہیں کرتے، جنہوں نے رمضان المبارک کے مہینے میں، شہادت پائی،
سیدنا حضرت حمزہ، عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنکی کربناک شہادت کو دیکھ کر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاب نہ لاسکے، اور آنکھوں، سے اشک مبارک جاری ہوگئے، بلا شبہ امام حسین نے اسلام کے تحفظ کے لئے، بڑی قربانی دی ہے، اور آپ پر بڑا ظلم کیا،گیا لیکن اسکا یہ مطلب نہیں، کہ باقی شہدائے اسلام جنہوں نے امام حسین سے پہلے شہادت پائی، انکی تاریخ کو فراموش کردیا جائے!
امام حسین اور اہل بیت سے محبت ہے، تو اسلام پر عمل پیراں ہوجاؤ، سنت و شریعت کو، مضبوطی سے تھام لو،
جلسہ کی صدارت فرمارہےمولانا مشتاق احمد قاسمی نے کہا،کہ شہدائے اسلام کی ذات وہ ذات ہے جنکا تعلق اللہ سے مضبوط ہوتا تھا اور انکا یقین اللہ رب العالمین پر کامل اور مکمل تھا،انہوں نے دین اسلام کے اشاعت اور تحفظ کی خواطر، اپنا جان و مال اسباب سب کچھ قربان کردیا!اسلام قربانی چاہتا ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے اصحاب نے بے مثال قربانی پیش کی اسلام کی اشاعت کے لئے،نواسہ رسول سیدنا حسین ابن علی نے، نے دس محرم الحرام کو میدان کربلا میں، شہادت پائی، جو تاریخ اسلام کی عظیم قربانیوں میں سے ایک ہے، انسان اس وقت کامیاب ہوسکتا ہے، جب وہ سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والا بنے،جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، ارشاد فرمایا کہ جسنے میری سنت کو زندہ کیا، میری امت میں فساد کے وقت اسکو سو شہیدوں کو ثواب دیا جائےگا!انہوں نے کہا، کہ تعزیہ دیکھنا اور بنانا اور راہوں میں گھمانا، یہ سب ناجائز اور خلاف شریعت امر ہیں، جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے، تعزیہ اسلام کا حصہ نہیں، کسی بھی صحابی نے تعزیہ نہیں بنایا، صحابہ کا نقش قدم، کامیابی کی دلیل ہے، اور جو نبی اور صحابہ کے طریقہ کے خلاف کام کرےگا! وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا!مولانا نعمت اللہ راجپوری نے بھی خطاب کیا! کانفرنس میں ، مولانا عبد الواجد قاسمی، مولانا محمد خالد قاسمی، حافظ محمد احسان الحق صاحب، حافظ محمد سیف الاسلام خواص طور سے شریک رہے ۔ مولانا فضل رب قاسمی نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا، نظامت کے فرائض مولانا عبد الماجد قاسمی نے انجام دئے، اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کرکے پروگرام کو کامیاب بنایا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں