بہار و سیمانچل

ہریا پنچایت ارریہ کے ایک عظیم شخصیت (ابوسفیان :ہریا چوک)۔

ہریا پنچایت ارریہ کے ایک عظیم شخصیت   (ابوسفیان :ہریا چوک)۔

 کسی بھی شخصیت کی صحیح قدر و قیمت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے تب اسکی ہربات، ہرادایاد آتی ہے، اس کے تجربے، مشاہدے اور خیال کی روشنی میں سے ایک غیر محسوس سا رشتہ قائم ہوجاتا ہے.  شخصیتیں اپنے افکارواعمال سے زندہ رہتی ہیں. حاجی صدیق مرحوم کی شخصیت بھی ایسی تھی کہ جن کے افکار میں زندگی کی ساری توانائیاں تھیں. سماج کو ان سے تحرک اور روشنی ملتی تھی. مربلا چوک کے مدرسہ و جامع مسجد کے ممبر رہ کر دینی خدمات اور سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی عام لوگوں میں ایک الگ ہی اثر و رسوخ کے مالک تھے.2014 میں اپنی شریک حیات کے ساتھ حج کو گئے. صوم و صلٰوۃ کے بہت ہی زیادہ پابند تھے.  17/مارچ بروز اتوارکو عشاء کی نماز کے لئے اپنی دولت کدہ سے مربلا چوک کی جامع مسجد کی طرف جارہے تھے کہ اچانک راستے میں ان کی طبیعت ناساز ہوگئی تو ارریہ ہاسپٹل لے کر گئے وہی اللہ کے پیارے ہوگئے.. انا للہ وانا الیہ راجعون.. حاجی صاحب کے پسماندگان میں چھ صاحبزادے اور سات صاحبزادیاں ہیں،سبھی صاحبزادیوں کی شادی کراچکے ہیں.  

  رہنے  کو   سدا  دہر  میں    آتا  نہیں  کوئی  

 تم جیسےگئے ایسے تو کوئی جاتا نہیں کوئی  

وہ ایک سچے پکے خدا رسیدہ انسان تھے ان کا ذہن کشادہ تھا ہر طرح کے تعصب سے مبرا تھے ان کی ذات مختلف محاسن مزین تھی ان کی شخصیت بیدار ذہنی سے مرصع تھی. گوناگوں صفات کی وجہ وہ اپنے معاصرین میں ممتاز تھے انہوں نے یقیناً ایک ایسی زندگی گزاری ہے جس میں آنے والی نسل کے لئے درس ہے.  حاجی صدیق مرحوم کی عمر 95 برس تھی اور ان کی شریک حیات ابھی باحیات ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین. 

موت سے کس کو رستگاری ہے    

  آج وہ  کل ہماری  باری  ہے

میں بارگاہِ خداوندی میں بدست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور ان کے درجات کو بلند کرے. مرحوم کے بڑے فرزند ارجمند جناب ماسٹر تبریز پرائمری اسکول مربلا، ان کے ناتی قاری مامون رشید بلوا، جناب ابواللیث جنرل اسٹور مربلا چوک ہریا پنچایت ارریہ اور دیگر پسماندگان کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتا ہوں عحشر تک اب زباں نہ کھولیں گے تم پکارو گے ہم نہ بولیں گے  ۔

 آسماں تیری لحد پر پر شبنم افشانی کرے  

 سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Show More

Related Articles

3 Comments

  1. اخلاقی گراوٹ،دوستو اسکی وجہ یہ ہے کہ آج ھم میں سے اکثر انسان کلی طور پر حوس اور مادیت پرستی کےشکار بن چکے ہیں ،آ ج ایک انسان کودوسروں سے جتننی دحشت ھوتی ھے اسےکہہں زیادہ جنگل کے جانوروں سے نھی ھوتی ‘

  2. اے دل! تجھے ہوا کیا ہے؟
    اللہ عز وجل نے بہتری کے سارے اسباب پیدا کیے وہ اس لیے کہ تمہاری نسل در نسل سکون کا مزا لے سکے, تمہاری زندگی کا ہر لمحہ پر اطمینان ہو۔تم بلبل کی طرح چہکو، تم جگنو کی طرح جگمگاؤ۔پیڑ ،پو دا کھیت،کھلیان،درخت، پُھول ،پھل، چرند ،پرند،بحر و بر کا سفر،کائنات کا باقی ماند ہ ہر کچھ تیرے لئے ہی مزین و میسرکیا،ابلیس کی ناقابل قبول برسوں کی عبادت کیا تیرے اعتراف کے لئے نہ تھا؟انبیاء کا ورود سعود تیری رہبری کے لئے نہیں ?عالم دین و با عمل کے خطابات ،غفلت کے گزرے لمحات کو جھگجھوڑنے کے لئے نہیں ? قرآن کریم کی وہ آیت کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔قیامت کے دن سوال پر جواب کیا ہوگا?
    کہیں نا کہیں سوچنا ہوگا پر قبل از قیامت سوچ پیدا ہوجاۓتو اکیلے کے لیے نا اللہ غفورالرحیم کی رضا ہو گی اور نا جنت۔بلکہ ہر نیک خیالات کو اجر عظیم ملےگا۔
    نبی ص کا آنا اور اللہ کا پیغام سنا نا مکّہ والوں کو اتنا متاثر کیا کہ مکّہ مکرمہ کی گلی کے نا لوں نے شراب کے بہنے کا نظارہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
    اور وہ د ن، حرمت کا فتویٰ سن کر آج تک ہزاروں گناہوں کی آلودگیوں سے بچنے کا پیغام دیتا آ رہا ہے۔پر سنتا کون ہے۔اُم الخبایث کہہ کر اس پاک ذات( جس پر میں اور میرے والدین قربان)نے ہر گناہ اور اس کے نتیجہ کی پیشین گوئی کی۔پر عمل کرتا کون ہے۔
    اپنے رب کی نافرمانی کر نے کا قہر، ایسا نہیں کہ تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا یا پھر یہ دل نہیں جانتا۔اگر نہیں تو پھر کیا تھا وہ جب آ سماں بو س عمارتیں اور کچے مکانات متزلزل ہو کر زلزلے کا شکار ہوئیں ،کیا تھا وہ مثل طوفان نوح(ع)طوفان کوسی، جب تمہارا دماغ و دل بے حرکت صرف فلک شگاف صداؤں اور دست بستہ دعاؤں میں منہمک تھا ۔
    شراب ،نشیلی ادویہ کا ہی اثر تو نہیں آپ کا دماغ و دل نے احساس کرنا چھوڑ دیا۔
    اللہ عز وجل نے بہتری کے سارے اسباب پیدا کیے وہ اس لیے کہ تمہاری نسل در نسل سکون کا مزا لے سکے, تمہاری زندگی کا ہر لمحہ پر اطمینان ہو۔تم بلبل کی طرح چہکو، تم جگنو کی طرح جگمگاؤ۔پیڑ ،پو دا کھیت،کھلیان،درخت، پُھول ،پھل، چرند ،پرند،بحر و بر کا سفر،کائنات کا باقی ماند ہ ہر کچھ تیرے لئے ہی مزین و میسرکیا،ابلیس کی ناقابل قبول برسوں کی عبادت کیا تیرے اعتراف کے لئے نہ تھا؟انبیاء کا ورود سعود تیری رہبری کے لئے نہیں ?عالم دین و با عمل کے خطابات ،غفلت کے گزرے لمحات کو جھگجھوڑنے کے لئے نہیں ? قرآن کریم کی وہ آیت کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔قیامت کے دن سوال پر جواب کیا ہوگا?
    کہیں نا کہیں سوچنا ہوگا پر قبل از قیامت سوچ پیدا ہوجاۓتو اکیلے کے لیے نہ اللہ غفورالرحیم کی رضا ہو گی اور نا جنت۔بلکہ ہر نیک خیالات کو اجر عظیم ملےگا۔
    نبی ص کا آنا اور اللہ کا پیغام سنا نا مکّہ والوں کو اتنا متاثر کیا کہ مکّہ مکرمہ کی گلی کے نا لوں نے شراب کے بہنے کا نظارہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
    اور وہ د ن، حرمت کا فتویٰ سن کر آج تک ہزاروں گناہوں کی آلودگیوں سے بچنے کا پیغام دیتا آ رہا ہے۔پر سنتا کون ہے۔اُم الخبایث کہہ کر اس پاک ذات( جس پر میں اور میرے والدین قربان)نے ہر گناہ اور اس کے نتیجہ کی پیشین گوئی کی۔پر عمل کرتا کون ہے۔
    اپنے رب کی نافرمانی کر نے کا قہر، ایسا نہیں کہ تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا یا پھر یہ دل نہیں جانتا۔اگر نہیں تو پھر کیا تھا وہ جب آ سماں بو س عمارتیں اور کچے مکانات متزلزل ہو کر زلزلے کا شکار ہوئیں ،کیا تھا وہ مثل طوفان نوح(ع)طوفان کوسی، جب تمہارا دماغ و دل بے حرکت صرف فلک شگاف صداؤں اور دست بستہ دعاؤں میں منہمک تھا ۔
    شراب ،نشیلی ادویہ کا ہی اثر تو نہیں آپ کا دماغ و دل نے احساس کرنا چھوڑ دیا۔اگر حقیقت یہی ہے تو پھرتوبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ھے۔
    شکریہ
    ساجدحسین
    المظاہری انٹرنیشنل ٹوراینڈٹریولس ایجنسی ارریہ بہار
    موبایل نمبر: 9546718165

جواب دیجئے

Close