استاذ ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر ! تحریر : مولانا فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :

 استاذ ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر ! تحریر : مولانا فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :     

5 ستمبر 1962 سے ہر سال اسی دن ہندوستان میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے، مختلف ممالک میں مختلف ایام میں یہ دن منایا جاتا ہے، دنیا بھر میں اس دن کی مناسبت سے سیمینارز، کانفرنسیں اورتقریبات ہوتی ہیں، اس دن اساتذہ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ معاشرے میں تعلیم کے فروغ کے ذریعے آنے والی نسلوں کی خدمت کریں گے، بعض ممالک میں ٹیچرز ڈے کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس دن کی مناسبت سے وہاں تعطیل ہوتی ہے، اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ استاد کے مقام و مرتبہ کو اجاگر کیا جائے اور اس کو وہ عزت واحترام دیا جائے جس کے وہ حقدار ہیں، ایک انگریزی مقولہ ہے:A Teacher is a Beacon that Lights the Path of a Child.(استاد وہ مینارہ نور ہے جوبچے کی راہ کو “علم و ہدایت سے” منور کر دیتا ہے)حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہر وہ شخص میرا استاذ ہے جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا ہو،ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو بچے کو نہ صرف ایک اچھا طالب علم بنائے بلکہ ایک اچھا انسان بھی بنائے، مغربی ممالک اور ہمارے ملک میں اس دن کی اہمیت اور افادیت مختلف ہے، مغربی اقوام نے واقعی اساتذہ کو معاشرے میں ایک باعزت اور منفرد مقام دے رکھا ہے، اُدھر ہر طبقہ اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ اساتذہ کو عزت و وقار اور عظمت کا مقام دیتے ہیں جبکہ اِدھر ہمارے ملک میں اساتذہ کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مغرب میں اساتذہ کی تمام ضروریات زندگی کو پورا کرنا حکمرانوں کی اولین ڈیوٹی ہوتی ہے وہ لوگ اساتذہ کو ذہنی سکون اور اطمینانِ قلب سے قوم کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کیلئے تمام روزمرہ زندگی کی آسائشوں اور سہولیات مہیا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے جبکہ ہمارے ہاں ایسی ایسی اسکیمیں اور حکمتیں بنائی اور اپنائی جاتی ہیں جس سے اساتذہ کا نام اور مقام سوسائٹی میں بدنام ہوتا نظر آتا ہے، وہ لوگ اساتذہ کو بھاری تنخواہیں دیتے ہیں ان کے بچوں کو تعلیمی وظائف اور تعلیم کی تکمیل کے بعد باعزت روزگار فراہم کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں بالکل اسکے برعکس ہے یہاں اساتذہ کی تنخواہیں وقت پر ادا نہیں کی جاتی، روزگار کا کوئی اچھا انتظام اور بندو بست نہیں ہے بہت سارے انجینیئر اور پڑھے لکھے لوگ بے روزگار یا چھوٹا سا کام کرکے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، وہ لوگ اس دن کی نسبت سے اساتذہ کو کئی جدید مراعات سے نوازتے ہیں جبکہ یہاں اساتذہ کو لیٹ آنے پر تنخواہیں کاٹی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ تعلیم کا شعبہ زبردست بدحالی کا شکار ہوتا جارہا ہے، ایسے حالات اور واقعات میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مغربی ممالک اور ہمارے ملک میں ٹیچر ڈے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، وہ واقعی خلوص بھرے جذبات واحساسات سے اساتذہ کی عزت و تکریم کرتے ہوئے انہیں یوم اساتذہ کے دن سلام پیش کرتے ہیں ان کو اساتذہ سے محبت اور پیار ہے دل سے انکی عزت و احترام کرتے ہیں. اس دن کے حوالے میں ایک بات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ طلباء اور اساتذہ دونوں کو چاہیئے کہ وہ اس مقدس رشتہ کو ذہن نشیں رکھیں، طلباء کو چاہیئے کہ وہ اپنے اساتذہ کا ادب واحترام کریں ان سے ایک روحانی تعلق قائم رکھیں اور اساتذہ کو بھی چاہیئے کہ وہ تمام طلباء کو ایک نگاہ سے دیکھیں، اور طلباء کو اپنی اولاد، بھائی اور بہنوں کی طرح ہمیشہ محبت و شفقت سے نوازیں، آج کے اس مادہ پرستی کے دور میں تعلیم وتعلم کو لوگوں نے ایک پیشہ بنا رکھا ہے، مدارس اور پرائیویٹ اداروں میں اساتذہ کو بہت کم تنخواہ دیکر انکا استحصال کیا جاتا ہے انکی زندگی کی بہت ساری ضروریات ادھوری رہ جاتی ہیں، اساتذہ تو قوم کے معمار ہوتے ہیں قوم کو ترقی کی طرف لے جانے اور قوم کو عمدہ بنانے میں علم اور اساتذہ کا بھی اہم کردار ہوتا ہے انکو اتنی تنخواہ دی جائے جس سے انکا گزارہ اچھی طرح ہوپائے انکو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں، سرکاری اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ سے میں مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ پوری لگن، محنت، ایمانداری، ذوق وشوق اور سچے دل سے اپنے تمام فرائض ادا کریں تاکہ طلباء کی عمدہ نشوونما ہوسکے، میں اپنے تمام اساتذہ خواہ وہ دنیا میں ہوں یا نہ ہوں ان سب کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ان کو لمبی عمر عطا فرمائے، اور وہ اسی لگن اور جذبے کے ساتھ علم ودانش کی ترویج کا مشن جاری رکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں