مولانا سلمان ندوی کی خدمت میں{ ایک بار ضرور پڑھیں }🖊 ظفر امام ، کشن گنجی

مولانا سلمان ندوی کی خدمت میں{ ایک بار ضرور پڑھیں }🖊 ظفر امام ، کشن گنجی

     میری بساط کیا ، میری مجال کیا کہ آپ جیسی شخصیت کو کچھ لکھ بھیجوں ، مجھے معلوم ہے اپنے علم کی تنگ دامنی ، آپ کہاں جلیسِ عرش اور میں کہاں خاکِ نشیں ، کہاں آپ ثریا پر اور کہاں میں ثری پر ، کہاں آپ زبرِ بریں اور کہاں میں زیرِ زمیں اور کہاں آپ علم کے بحرِ بےکراں اور کہاں میں جہل کدہ کا ایک پاسباں ، لیکن بس دل میں ایک درد چھپا ہے ، جس کا ادراک کافی دنوں سے قلب محسوس کر رہا تھا ، جب اختلاجِ قلب کا یہ دورہ ذہن و دل کے آبگینے پر کافی شاق گزرا تو نا چاہتے ہوئے بھی یہ چند سطور لکھنے کی ہمت جٹا پایا ، اس لئے آپ یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک شخص کے دل کا درد ہے ، جو آنسو بن کر صفحۂ قرطاس کو سیاہ کر رہے ہیں ، تنہائی کے عالم میں ذرا سوچیں کہ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ ؛
                  محترم! نہ جانے آپ کو کسی کی نظر لگ گئی ہے یا پھر آپ خود ہمیشہ سرخیوں میں رہنا پسند کرتے ہیں کہ آئے دن آپ کچھ ایسے نئے نئے شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں کہ کئی مہینوں تک صرف آپ ہی کے نام کا طبلا بجتا ہے ، اور ہر طرف آپ ہی کے اسمِ گرامی کا ورد زبانوں پر ہوتا ہے ، شاید اس سے آپ کو کافی راحت ملتی ہوگی؟ آپ کوئی ایک نیا شگوفہ چھوڑ کر اپنے خلوت کدے میں کوئی اگلا شگوفہ سوچنے کے لئے مراقبہ میں چلے جاتے ہیں اور ادھر آپ کے پرستاروں اور حق شناسوں کے  باہم دست و گریباں ہونے کا ایک خوفناک منظر رونما ہو اٹھتا ہے ، جس سے شاید آپ کو کافی سکون ملتا ہوگا ، ہے نہ ؟
                         ویسے آپ کے کھلائے گئے اب تک کے شگوفے تو ایک نہیں بلکہ انیک ہیں ، پہلے داعئ حق مولانا کلیم پھلتی کی ذات پر آپ نے زہر آلود نشتر چبھوئے اور اس کے لئے آپ نے ” کلیم پھلتی ” نامی ایک پوری کتاب ہی لکھ ڈالی ، نادان عوام نے جن کے سروں کا آپ اس وقت ایک چمکدار تاج اور دلوں کی دھڑکن سمجھے جاتے تھے ، آپ کی اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور آپ کی زمانے بھر میں دھوم سی مچ گئی ، اب نہ جانے آپ نے مولانا سے کون سی رنجش کا یہ بدلہ چکایا تھا ، یا شاید آپ کی شہرت طلب طبیعت نے آپ کو اس کام پر آمادہ کیا تھا یا پھر کوئی اور ہی مقصد تھا وہ تو خدا ہی کو معلوم ہے ، پر میں آپ سے صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کو کتابوں میں کوئی ایسی حدیث نہیں ملی تھی ، یا آپ کی عقابی نظر کسی ایسی آیت سے نہیں ٹکرائی تھی جو کسی مومن وہ بھی مخلص مومن کے دل کو ٹھیس پہونچانے کی قباحت پر دال ہو ؟
           پھر جب آپ اور مولانا کلیم پھلتی صاحب کے پسِ پردہ چھپے ہوئے چہرے منظرِ عام پر آئے اور سب کو حقیقت کا ادراک ہوگیا تو آپ نے مزید اپنی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اپنی جوانمردی پر دادِ شجاعت دیتے ہوئے یہ سوچ کر کہ اس سے تو میں پوری دنیا میں مشہور ہوجاؤنگا ، سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذاتِ با برکت پر اتہامات و الزامات کی بوچھار کردی اور آپ نے العیاذ باللہ کاتبِ وحی اور صحابئ رسول کے خلاف وہ الم غلم لکھ ڈالا کہ ألأمان و الحفیظ ، جبکہ آپ کے علم میں ہوگا اور یقینا ہوگا کہ مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں جمہور کا مسلک سر بمہر ہوگیا ہے کہ ان کے بارے میں توقف کیا جائے ، چلو اگر آپ جمہور کے مسلک کو نہیں مانتے کہ آپ اپنے زعم میں ایک مجتہدِ مطلق ہیں تو کم از کم نبئ اکرم ﷺ کی اس حدیث پر اپنی ریشہ دوانیوں سے پہلے غور کرلیا کرتے جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا ” فببغضی أبغضہم ” ( کہ صحابہ کے ساتھ بغض گویا کہ مجھ سے بغض رکھنا ہے ) اور یہ ایک اجماعی بات ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرکے رضی اللہ عنہم کے طلائی تمغے سے سرفراز ہوئے ؛
            چلئے یہ تو ایک مطلق حدیث ہے جس سے آپ چشم پوشی کرسکتے ہیں ، لیکن ان احادیث کا کیا کرینگے جن میں خصوصیت کے ساتھ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا ذکر ہے ، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، ” دخل رسول الله صلي الله عليه و سلم علي ابنة ملحان ، فاتكأ عندها ، ثم ضحك ، فقالت لم تضحك يا رسول الله! فقال ناس من أمتي يركبون البحر الأخضر في سبيل الله ، مثلهم مثل ألأسرة ” { بخاری ج ١ /  ص ۴۰٣ ، مسلم ج ۲/  ص ١۴١ _ ۴۲ } ( آپ ﷺ ایک دن سیدہ ام حرام بنت ملحان پاس آئے ، اور ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ، پھر کچھ دیر بعد مسکرائے تو بنت ملحان نے مسکرانے کا سبب پوچھا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” میری امت کے کچھ لوگ سبز رنگ کے سمندر میں سوار اللہ کے راستے میں  جہاد کرنے نکلینگے ، ان کے تختے بادشاہوں کے تختوں جیسے ہونگے ، ) مسلم شریف میں ہے کہ اس سمندری جہاد کی قیادت کی سعادت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھی ، اس سے بخوبی امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے ، اس کے علاوہ ایک اور حدیث ہے جس کے راوی عبد الرحمن بن ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ نبئ اکرم ﷺ نے حضرت امیرِ معاویہ کے حق میں یہ دعا ارشاد فرمائی ” ألهم اجعله هاديا مهديا ، و اهده و اهد به ، ولا تعذبه ” { سنن الترمذی رقم الحدیث ٣۸۴۲ و قال حسن غریب ، تاریخ بغداد للخطیب ج ١ / ص ۲۰۷ سندہ حسن } ( اے اللہ ان ( معاویہ ) کو ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ بنا دیجیے ، اس کو بھی ہدایت دیجیے اس کے ذریعے بھی ہدایت دیجیے اور ان کو عذاب نہ دیجیے ) اسی طرح ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کاش میری عمر معاویہ رضی اللہ عنہ کو لگ جاتی ، اب آپ ہی بتائیں کہ ان احادیثِ مبارکہ کے بعد ان کے خلاف آپ کی ہرزہ سرائیاں مقبول ہونگی یا مطرود ؟    
            پھر جب آپ کو محبینِ صحابہ کی طرف سے دھتکاریں ملیں اور آپ کی شہرت پر دھندلکے اپنی چادر پھیلانے لگے تو آپ کو یہ اچھا نہیں لگا اور آپ نے پھر سے شہ سرخی میں اپنی جگہ بنانے کے لئے ” بابری مسجد اور رام مندر کا مسئلہ ” اٹھا کر کروڑوں ہندوستانیوں کے دلوں میں ٹھیس پہونچایا جبکہ آپ جیسے شناورِ علم کو تو یہ معلوم ہی ہوگا کہ ” جب ایک جگہ مسجد بن جاتی ہے تو قیامت تک وہاں مسجد ہی رہتی ہے ، وہاں سے کسی بھی صورت میں اس کا انتقال جائز نہیں ” اس سلسلے میں بھی آپ کی کافی دھوم مچی اور کئی مہینوں تک آپ کو سرخیوں میں رہنا نصیب ہوا ؛
           اس کے بعد جب آپ کی طبیعت سیراب نہ ہوئی تو یکے بعد دیگرے آپ نے مسلم پرسنل لاء بورڈ ، حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب مدظلہ العالی ، مولانا سجاد نعمانی دامت برکاتہم اور دارالعلوم دیوبند کے سینوں پر بھی اپنا زہر آلود خنجر چبھونے سے دریغ نہ کیا ، جب کہ آپ کو ان کی اہمیت و افادیت کا بخوبی پتہ ہے ، وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ جو مسلمانوں کے دینی ، ملی اور سماجی قوانین کا پاسباں ہے ، وہ مولانا ارشد مدنی جو ضعیف العمری کے اس دور میں بھی امت کی فلاح و بہبود کی خاطر اپنا تن من اور دھن سب کچھ قربان کردیتے ہیں ، وہ سجاد نعمانی جن کے روح پرور بیانات سے نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے زنگ آلود قلوب صیقل ہوتے ہیں ، اور وہ دارالعلوم دیوبند جس کی عظمت و سطوت کا غلغلہ پوری دنیا کے ریگزاروں سے لیکر مرغ زاروں تک پھیلا ہوا ہے ، لیکن بات ذرا تلخ ہے پر ہے حقیقت کہ آپ کا تعصب بھرا ذہن اور جاہ و منصب طلب طبیعت نے ذرہ برابر بھی ان کی عظمت و تقدس اور حرمت و شرافت کا آپ سے پاس و لحاظ نہ کروایا ؛
                       یہی نہیں بلکہ آپ نے عین قربانی کے دن ” قربانی کے ایام چار ہیں ” کہہ کر اور کسی ایک امام کے اس قول کو بشمولِ احناف جمہور کا قول قرار دے کر ، اور یہ ڈھنڈورا پیٹ کر کہ احادیث سے یہی چار دن ثابت ہیں ( اگرچہ ایک بھی صحیح دلیل دینے سے آپ قاصر رہے ) سارے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ، اور خوب خوب سرخیاں بٹوری ، اب پتہ نہیں کہ اسطرح کے مواقع کی آپ تلاش میں رہتے ہیں یا خود مواقع آپ کو تلاشتے ہیں ، اس سے قطع نظر کہ برحق ائموں میں سے بعض کا یہ مسلک ہے ، ( جو کہ ان کے پیروکاروں کے لئے حق بھی ہے ، ) لیکن آپ ایک حنفی ہو کر دوسرے امام کے مسلک کی نمائندگی کر کے تلفیق بین المسلکین والی لذت کے چکھنے اور اس کی چاشنی سے لطف اندوز ہونے سے خود کو روک نہ پائے؛
            اتنا سب کرجانے کے باوجود آپ کی باتیں تو یہاں تک کسی حد تک قابلِ برداشت تھیں ، کیونکہ آپ کا وہ دوسرے کے ساتھ ایک ذاتی معاملہ تھا ، لیکن آپ نے اب ایک ایسا نیا شگوفہ کھلایا ہے جس نے پوری امتِ مسلمہ کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے ، کیونکہ آپ نے باوجود اس کے کہ دورِ حاضر کے مایہ ناز اور بلا استثناء فقیہ ، اس دورِ قحط الرجال میں علم و اگہی کی قندیلیں فروزاں کر کے جہل و تاریکی کے پردے کو چھانٹنے والی ایک متحرک و فعال ، نبض شناس اور دور رس عالمِ دین شیخ الاسلام جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی نے آپ کو اس کارنامے سے روکا بھی تھا ، اور اس کے بھیانک انجام سے آگاہ بھی کیا تھا ، لیکن آپ نے اپنی تاریخی شخصیت پر ناز کرتے ہوئے کسی کی ایک نہ سنی ، اور بالآخر ایک وہ نیا کانارمہ انجام دے ڈالا کہ آپ سے پہلے تاریخ میں کوئی اور انجام نہ دے سکا تھا ، آپ نے اپنے اس کارنامے ( قرآن کی نئی ترتیب ) سے بیک جنبشِ قلم نہ صرف ان تمام اسلاف کے دلوں پر چھرا گھونپا ہے ، جن کے عظیم احسانوں کا آپ کا علم بھی رہینِ منت ہے بلکہ ان کی ثقاہت و فقاہت کو بھی مجروح کیا ہے کہ اب تک العیاذ باللہ وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے تھے یا سمجھ کر انجان بنے رہے تھے ؛
                 حضرت! مانتے ہیں کہ قرآن کے پاروں کی ترتیب توقیفی نہیں ہے ، بلکہ بعد میں سہولت کے پیشِ نظر یہ کام کیا گیا ہے ، تو سوال یہ ہیکہ کیا صرف یہی کام توقیفی نہیں ہے یا پھر اور بھی کچھ ہے جیسے رکوعات کا اضافہ پاروں کی تقسیم وغیرہ ؟ یقینا آپ کہینگے کہ یہ بھی توقیفی نہیں ہے ، تو پھر ایسا کیجیے کہ رکوعات کو بھی آگے پیچھے کردیجیے اور پاروں کو کچھ گھٹا یا بڑھا دیجیے کہ آرام طلبی کے اس دور میں یہ ایک لائقِ تحسین کارنامہ ہوجائےگا ؛
                   دوسری بات یہ کہ آپ کہتے ہیں کہ پاروں کی تقسیم میں معنی کے لحاظ سے ارتباط نہیں ہے ، جس سے نماز میں خشوع و خضوع پیدا نہیں ہوپاتا ، چلئے ہم یہ بھی مان لیتے ہیں ، لیکن کاش کہ آپ تھوڑا اس کی متبادل صورت پر بھی غور کرلیتے ، تو آپ کو یہ کام کرنے کی ضرورت پیش ہی نہ آتی؛
           بات اصل میں یہ ہیکہ عام طور پر بڑی بڑی سورتیں نماز میں پڑھنا ممکن نہیں تو مشائخِ مقدمین نے یہ کیا کہ معنی کی رعایت کرتے ہوئے رکوع کا انتخاب فرمایا ، تاکہ نماز بھی بامقصد ہوجائے اور اس طرح پورے قرآن سے پڑھنےکا شرف بھی حاصل ہوجائے ، چنانچہ فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے : إن المشائخ جعلوا القرآن علی خمس مأة وأربعین رکوعًا واعلموا ذلک في المصاحف حتی یحصل الختم في لیلة السابعة والعشرین (الفتاوی الہندیة: ۱/۹۴، فصل التراویح، علوم القرآن، ص: ۱۹۸، ط: مکتبة دارالعلوم کراچی ) تو حضرتِ والا! اگر آپ کے اندر اتنی ہی دینی تڑپ تھی تو آپ قریہ قریہ اور شہر شہر جا کر یہی بات لوگوں کو سمجھاتے ، انتشار پھیلانے کی کیا ضرورت تھی ؟
                   بلکہ اگر دیکھا جائے تو بعض آیت پر بھی نمبر ایسی جگہ لگایا گیا ہے جہاں سلسلۂ کلام ختم نہیں ہوتا ، مثلا دوسرے پارہ میں سورۂ بقرہ کی ایک آیت ” ویسئلونک عن الخمر و المیسر الخ ” ہے ، جو ختم ” لعلکم تتفکرون ” پر ہوتی ہے ، اور دوسری آیت ” فی الدنیا و الآخرۃ ” سے شروع ہوتی ہے ، جبکہ ” فی الدنیا و الآخرۃ ” کا ربط پچھلی آیت سے جڑا ہوا ہے ، تو کیا آپ آیتوں میں بھی رد و بدل کرینگے ؟
                             پھر ان سب میں سب سے اہم بات یہ ہیکہ پاروں کی اس ترتیب میں صدیوں سے امت کا تعامل چلا آرہا ہے ، اس بیچ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مفسرین ، محدثین ، مجددین اور مشائخ پیدا ہوئے تو کیا کسی کی نظر اس پر نہ گئی اور کسی کی علمی غیرت نہ جاگ اٹھی؟
              آپ کہینگے کہ نہیں نظر بھی گئی تھی ، علمی غیرت بھی جاگی تھی اور انہوں نے دبی زبان میں اس مسئلے کو اٹھایا بھی تھا ، سو جنابِ والا ادبا استفسار ہے کہ آخر اس کام کو کرنے سے کون سی چیز ان کے لئے مانع بنی تھی ؟ اگر کوئی آدمی ذرہ برابر بھی عقل و سمجھ رکھتا ہے تو وہ یہی کہے گا کہ امت کے انتشار کا خوف ان کے سدِ راہ ہوا تھا ، لیکن چونکہ شاید آپ ایک مہان اور قسمت کے دھنی انسان ہیں اس لئے یہ انتشار اور خلجان پھیلانے والا کارنامہ آپ کی شان کو ہی شایاں تھا اس لئے آپ نے نہ آگے دیکھا نہ پیچھے اس کے انجام کو سوچے بغیر اس کام کو انجام دے ڈالا ؛
                      آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ میں نے یہ کارنامہ کرکے بہت بڑا تیر مار لیا ہے ، اور اب میری شہرت میں چار چاند لگ جائینگے جس کی تجلی زمانہ کی نگاہوں کو کافی دنوں تک خیرہ کئے رکھے گی ، لیکن! یاد رکھیں کہ اس دورِ انتشار میں جب کہ امت سِسَک رہی ہے ، قوم کی نگاہیں ایک ایسے مسیحا کی منتظر ہیں ، جو زندگی کے صحنِ چمن میں آئے ان طوفانوں کے رخ کو موڑ دیں ، شیروں کی کچھاریں گیدڑوں کی آماجگاہیں بن گئی ہیں اور عقاب کے نشیمن زاغوں کے تصرف میں آگئے ہیں ، آپ کا یہ کارنامہ آپ کی رہی سہی شہرت کو بھی سلب کرلے گا اور آپ کے تئیں عوام کے دلوں میں نفرتوں ( جن کا آپ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں ، ورنہ ایک دور تھا کہ لوگ آپ کے بیانات سننے کے لئے پروانہ وار آپ کی طرف دوڑ پڑتے تھے ، اور پھر مہینوں تک آپ کی تعریف و توصیف میں سب رطب اللسان رہتے تھے ، اور اب حال یہ ہیکہ آپ کا نام سنتے ہی آپ پر پھبتیاں کستے ہیں اور آپ کے نام کا مضحکہ اڑاتے ہیں ) کا ایک ایسا خلیج قائم کردےگا جس کو شاید آپ کی کئی زندگیاں بھی پاٹ نہ سکینگی اور پھر آپ کو گم نامی کی ایسی وادی میں پہونچا دے گا جہاں آپ کا وجود لوگوں کے لئے محض ایک قصۂ پارینہ بن کر رہ جائے گا ؛
            اس لئے خدا را اپنے حال پر کچھ رحم کیجیے ، کچھ بلندیاں آخرت کے لئے بھی رکھ چھوڑیے ، یقیناً آپ کی ذات قوم کے لئے ایک مایۂ ناز اور فخر ہے ، خدا نے آپ کو بےپناہ قابلیتوں سے نوازا ہے ، ان کا صحیح استعمال کیجیے اور ان کا صحیح استعمال یہ ہیکہ ان کو کسی تعمیری و اصلاحی کام میں لگایا جائے نا کہ تخریبی اور انتشار انگیزی میں ؛
                    آپ کے یہ اقدامات تو ہیں ہی نہایت قابلِ افسوسناک ، لیکن اس سے کہیں زیادہ افسوس آپ کے ان درباریوں اور جی حضوریوں پر ہوتا ہے ، جو محض اپنی انا اور تنگ نظری کی خاطر حق کی حمایت کرنے والوں کے خلاف ہمیشہ بر سرِ پیکار رہتے ہیں ، اور برہنہ گفتاری ، سوقیانہ کلامی اور طوفانِ بد تمیزی کی تمام حدود پار کر جاتے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے آپ کے یہی وہ درباری پشت پناہ ہیں جنہوں نے آپ کو اس قدر جری کردیا ہے کہ آپ کے دل سے حق و باطل کی تمیز بھی نکل گئی ہے ، اور آپ اس زعم میں پھولا نہیں سما رہے ہیں کہ آپ کے اقوالِ باطلہ کی واہ واہی کرنے والے کاسہ لیسوں کی ٹولیاں آپ کو بآسانی میسر آ رہی ہیں ، لیکن آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایسے دیوانے اور خبطی درباری تو ملعون و پاگل قادیانی کو بھی میسر تھے ، تو کیا چند لوگوں کا کسی کے مسلک ، مشرب اور تفرد پر واہ واہی کرنا اور اس کو تحسین کی نظر سے دیکھنا اس کے سچا ہونے کی دلیل ہے ؟ اس لئے خدا را اپنے ان جھوٹے درباریوں کی خاطر اپنی لٹیا مت ڈبوئیے ؛ خدا سب کو سمجھ دے …
                      میں ایک بار پھر اپنی کم سوادی اور بے مائیگی کا اعتراف کرتا ہوں ، اور ساتھ ساتھ اپنی اس گستاخی پر معافی کا خواستگار بھی ہوں ، لیکن کیا کریں! آپ کی باتیں اگر ہمہ شمہ تک محدود رہتیں تو شاید یہ جرأت کبھی نہ کر پاتا ، لیکن آپ کی باتیں ان لوگوں کے خلاف زہر اگل رہی تھیں ، جن کی بدولت ہی ہم تک دین پہونچا ، اور شریعت سے ہمیں روشناسی نصیب ہوئی ، اس لئے یہ سوچتے ہوئے کہ
ع _ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

          اور جو آپ کی آنکھوں میں پڑی دبیز چادر کو ہٹادے ، یہ چند سطور لکھ دی ، امید کہ ان کو اپنے دل میں جگہ دینگے ، اور عبرت کی نگاہیں ان پر دوڑائینگے …….

اپنا تبصرہ بھیجیں