بد حال سیمانچل کا پرسان حال کون؟؟؟ ڈاکٹر ابو صائم بنگلور

بد حال سیمانچل کا پرسان حال کون؟؟؟
سرجا پوری زبان میں ایک مشہور کہاوت ہے

منگریڈا نی لیبو تو چینگڈا لے
چینگڈا نی لیبو توچینگڈا لے۔

جس کا مطلب  یہ ہے کہ صرف اپنی ذاتی مفاد کے لئے کام کرنا اور زبرن لوگوں کی حق کو دبا کر اپنا الو سیدھا کرنا،
جبکہ آج کا لیا گیا فیصلہ آنے والے زمانہ کی بربادی یا آبادی کی وجہ بنتا ہے … .؟  کیا وجہ ہے کہ ہم آئینی طور پر منتخب نمائندے یا پارٹی سے آئینی انداز میں سوال کرنے کی جسارت نہیں کر سکتے ؟۔ کیا اسی وجہ سے آئین نے ہمیں ہر پانچ سال میں ایک بار اپنے سیاسی رہنماؤں کے انتخاب  کا موقع فراہم کیا ہے؟منتخب شدہ نمائندہ  یا پارٹی ہم کو بطور ووٹ بینک ہمارا استعمال کرکے استحصال کرے اور ہم ان سے سوال بھی نہ کریں ؟
کیوں ہم اب تلک اپنی بنیادی حقوق س ناواقف ہیں؟ جن لوگوں نے ہمارے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے ، وہ ہمیں تعلیم ، روزگار ، پانی ، بجلی ، روڈ و پل جیسی بہت سی بنیادی سہولیات سے محروم کردیا ہے ، کیا  پارٹی ہائی کمان کو اسکی خبر نہیں ہے؟  ہمارا سیمانچل ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ پورے ہندوستان کی اعلی رہنما یا بڑی جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ یہ علاقہ روایتی ووٹ بینک ہے ، پھر یہاں کی ترقی کی   کسی کوفکر کیوں نہیں ہو رہی ہے۔آخر کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟

جب ہم قدرتی آفات میں اپنی جان مال سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو ، کچھ لوگ ہمارے اپنے بن کر مرہم پٹی کرنے و اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کا کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
کیوں عرصئے دراز سے مطالبہ کیا جانے والا سیما نچل اسپیشل پیکج منظور نہیں کیا جاتا ہے؟ 
سیمانچل کی فلاح کیلئے آرٹیکل 371 نافذ کیوں نہیں کیا جاتا؟ اے ایم یو سنٹر کے لئے فنڈز کیوں جاری نہیں کیے جارہے ہیں؟ ہمارے سیمانچل میں ایمس جیسا ہسپتال کیوں نہیں بنایا جارہا ہے؟  جس کی وجہ سے ہزاروں مریض دہلی ممبئی چنئی حیدرآباد و بنگلور جانے پر مجبور ہیں؟  آیوشمان بھارت اسکیم دستیاب ہے ، لیکن اسکی سہولت سیمانچل میں نہیں کے برابر  ہے۔
ہوسکتاہے میری بات کسی کو ناگوار  لگے  سابق ایم پی مولانا مرحوم نے جس گاوں  کو گود لیا تھا اس کی حالت دیگر گوں کیوں ہے،اپنے ہر انتخابی جلسہ  میں جو تعلیمی انقلاب و بیداری کے وعدے کئے گئے تھے اس پر کتنا عمل ہواہے؟
اس میں میرا مولانا مرحوم کو بدنام کرنے کا ارادہ نہیں بلکہ کانگریس پارٹی کی سیمانچل کے تئیں سوتیلا پن کو واضع کرنا ہے ۔
ہمیں سیمانچل کے ہر مسئلے کو نو منتخب رکن پارلیمنٹ کو تحریری طور پر دینے کی ضرورت ہے اور ممبر پارلیمنٹ کو پارٹی ہائی کمان کو آئینہ دکھانا چاہئے کہ پورے بہار سے واحد کانگریس کی لاج رکھنے والی کشن گنج پارلیامانی حلقہ کی ترقیاتیی منصوبوں کوحکومت سےمنظوری دلواکر سیمانچل کو اسکا حق دلائیں ۔

اخیر میں سیمانچل کے باشعور نوجوانوں سے ہماری اپیل ہے کہ اگر آپ واقعی سیمانچل کے خیرخواہ ہیں عوامی نمائندوں کے کارکن ہیں ، تو آپ اپنے مقامی مسئلے کو اپنے قائد سے حل کرائیں،اور اگر عوام نمائیندوں کی ناکامی پر سوال کھرے کرے تو انکا بچائو نہ کر کے ان پر دباؤ بنائیں اور نمائندوں سےکام کروا کر اسکا جواب دیں کسی بھی رہنما کی نکمےپن پر پردہ پوشی کر نے سے گریز کریں تبھی ہمارے علاقے کو ترقی مل سکتی ہے ۔

ڈاکٹر ابو صائم بنگلور ریزیڈنس سرسی امور اسمبلی

اپنا تبصرہ بھیجیں